30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے کہ اس کا دل ہر لمحہ اسی میں مشغول رہتا ہے یہاں تک کہ وہ نماز میں ہوتا ہے لیکن اس کا دل لڑائی جھگڑوں میں مشغول ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کی حالت استقامت پر باقی نہیں رہتی۔ خصومت ہر برائی کی جڑ ہے اسی طرح مِرَاء وجِدَال ہیں۔ پس انسان کو چاہئے کہ وہ لڑائی جھگڑے کا دروازہ نہ کھولے سوائے اس کے کہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو پھر بھی اپنی زبان و دل کواس کی آفات سے بچائے۔ (۱)
بعض متأخِّرین علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : ’’قاضی کے وکلا کی گواہی قبول نہ کرنا عجیب مسئلہ ہے۔‘‘حالانکہ آج کل اکثر قاضیوں کے وکلا کے اعتبار سے اس مسئلے کو دیکھا جائے تو اس میں کوئی عجیب بات نہیں کیونکہ وہ وکالت میں قبیح مفاسد اور کبیرہ گناہوں بلکہ قابلِ نفرت فحش باتوں کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔
خصومت، مِرَاء اور جدال کی تعریفیں :
حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ) فرماتے ہیں : ’آفاتِ زبان میں خصومت، مِرَاء اور جدال بھی قابلِ مذمَّت ہیں۔مِرَاء سے مراد یہ ہے کہ کسی کی خامیاں نکالنے کے لئے اس کے کلام میں طعن کرنا اوراس سے مقصوداس کی حقارت اور اپنی برتری کے علاوہ کچھ نہ ہو۔ جِدَال مذاہب کو ظاہر اور ثابت کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ خُصُوْمَتسے مراد اپنا یا دوسر ے کا مال لینے کے لئے کلام میں جھگڑ اکرنا ہے۔یہ کبھی ابتداء ً ہوتی ہے اور کبھی بطورِ اعتراض، البتہ! مِرَاء صرف بطورِ اعتراض ہوتا ہے۔ (۲)
حضرت سیِّدُنا امام یحییٰ بن شرف نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۶۷۶ھ) فرماتے ہیں کہ جدال کبھی حق میں ہوتا ہے وہ یوں کہ حق کا اثبات، اظہار اور وضاحت کرنا اور کبھی باطل میں ہوتا ہے وہ اس طرح کہ حق کو روکنا یا بغیر علم کے جھگڑا کرنا۔ چنانچہ، اس کے متعلق 3 فرامین خداوندی ملاحظہ فرمائیے:
وَلَا تُجٰدِلُوۡۤا اَہۡلَ الْکِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحْسَنُ ٭ۖ (پ۲۱، العنکبوت :۴۶)
ترجمہ کنز الایمان:اور اے مسلمانو! کتابیوں سے نہ جھگڑو مگر بہتر طریقہ پر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1… الاذکارللنووی،کتاب حفظ اللسان، باب فی الفاظ یکرہ استعمالہا،ص۲۹۶۔
2…المرجع السابق۔ احیاء علوم الدین، کتاب آفات اللسان، الآفۃ الخامسۃ الخصومۃ، ج۳،ص۱۴۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع