30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{2}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ شخص بہت زیادہ جھگڑا کرنے والا ہے۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی۲۰۴ھ) اپنی کتاب’’ اَ لْام‘‘میں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک جھگڑے میں وکیل بنایا گیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمانے لگے: ’’جھگڑے میں سختی و تباہی ہے اوراس میں شیطان آگُھستا ہے۔‘‘ (۲)
{3}…سیِّدعالم ،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جس نے کسی جھگڑے میں بغیر علم کے بحث کی وہ ہمیشہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی میں رہے گا یہاں تک کہ اسے چھوڑ دے۔‘‘ (۳)
{4}…رحمت ِ عالم ،نُورِ مجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’کوئی قوم ہدایت حاصل کرنے کے بعد گمراہ نہیں ہوئی مگر یہ کہ انہوں نے جھگڑا کیا۔‘‘ پھر آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ آیت ِ مبارکہ تلاوت فرمائی :
مَا ضَرَبُوۡہُ لَکَ اِلَّا جَدَلًا ؕ بَلْ ہُمْ قَوْمٌ خَصِمُوۡنَ ﴿۵۸﴾ (پ۲۵، الزخرف :۵۸)
ترجمۂ کنز الایمان:انہوں نے تم سے یہ نہ کہی مگر ناحق جھگڑے کو بلکہ وہ ہیں جھگڑالو لوگ۔‘‘ (۴)
تنبیہ:
مذکورہ گناہوں کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اور پہلے گناہ کے متعلق بخاری شریف کی مذکورہ حدیث ِپاک صریح ہے، بعد والے گناہ بھی اسی جیسے ہیں اور یہ واضح ہے۔ میں نے دیکھا کہ بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے باہمی جھگڑے میں بدتہذیبی کو کبیرہ گناہ شمار کیا اور مراء وجدال دونوں کو الگ الگ مطلقًا کبیرہ گناہ شمار کیا ہے مگر اس میں مزید غور وفکر کی ضرورت ہے، اسی لئے میں نے اس کے ساتھ مذموم کی قید لگائی۔ حضرت سیِّدُنا امام یحییٰ بن شرف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری،کتاب التفسیر،سورۃ البقرۃ، باب وَہُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ،تحت الآیۃ۲۰۴، الحدیث:۴۵۲۳،ص۳۷۱۔
2…الام للامام الشافعی،کتاب الرہن الکبیر، باب الضمان، الوکالۃ،ج۲، الجزء الثالث،ص۲۳۷۔
3…موسوعۃالامام ابن ابی الدنیا،کتاب الصمت وآداب اللسان، باب ذم الخصومات، الحدیث:۱۵۳،ج۷،ص۱۱۱۔
4…جامع الترمذی، ابواب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ الزخرف، الحدیث:۳۲۵۳،ص۱۹۸۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع