دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal Jild 2 | جہنم میں لے جانے والے اعمال جلد 2

book_icon
جہنم میں لے جانے والے اعمال جلد 2

{2}…حضرت سیِّدُنا مسروق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے ابنِ زیاد سے ظلماً لئے ہوئے ایک حق کے بارے میں بات کی تو اس نے وہ حق واپس کر دیا۔ جس کا مال ظلماً لیا گیا تھا اس نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کی طرف ایک خادم ہدیۃً بھیجا مگر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے قبول نہ کیا اور واپس لوٹا دیا پھر ارشاد فرمایا: ’’میں نے حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ارشاد فرماتے سنا کہ جس نے کسی مسلمان کا ظلماً لیا ہوا مال لوٹایا اور اسے ا س پر تھوڑا بہت دیا گیا تو یہ حرام کمائی ہے۔‘‘ ایک شخص نے عرض کی: ’’اے ابوعبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ! ہم تو یہ گمان کرتے تھے کہسُحْت سے مراد فقط فیصلوں میں رشوت لینا ہے۔‘‘ تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے ارشاد فرمایا: ’’یہ کفر ہے، ہم اس سے اللہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ طلب کرتے ہیں۔‘‘ (۱)

{3}…حضرت سیِّدُنا امام اوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ بیروت میں رہتے تھے، ایک نصرانی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کے پاس آیااور کہنے لگا: ’’بَعْلَبَکَّ کے حاکم نے ایک حق کے سلسلے میں مجھ پرظلم کیا اور میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے متعلق اس کی طرف لکھیں۔‘‘ وہ بطورِ ہدیہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کے پاس ایک شہد کی صراحی لایا تھا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے ارشاد فرمایا:’’اگر تو چاہے تو میں تجھے یہ صراحی واپس کر دوں اور( سفارشی بن کر) اس کی طرف لکھ دوں اور اگر چاہے تو اسے رکھ لوں لیکن سفارش نہ کروں۔‘‘ تو نصرانی نے عرض کی:’’لکھ دیں اور وہ برتن واپس کر دیں۔‘‘ چنانچہ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے حاکم سے سفارش کی کہ اس کا خراج کم کر دے تو اس نے 30 درہم کم کر دیا۔ (۲)

{4}…حضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی۲۰۴ھ) فرماتے ہیں : ’’اگر قاضی نے اپنے فیصلے پر رشوت لی تو اس کا فیصلہ مردود ہے اگرچہ وہ حق فیصلہ کرے اور رِشوت بھی مردود ہو گی اور جب قاضی کو فیصلے پر رشوت دی جائے تو اس کا عہدۂ قضا باطل اور فیصلہ مردود ہے، البتہ! جو شخص بادشاہ سے ہم کلام ہوتا ہے اس کے حق میں حصولِ انعام کے لئے (بادشاہ پر)مال خرچ کرنا رشوت میں سے نہیں بلکہ یہ دینا جائز ہے۔ ‘‘

 

۞۞۞۞۞۞۞

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1…کتاب الکبائر للذہبی، الکبیرۃ الثانیۃ والثلاثون:آخذو الرشوۃعلی الحکم، ص۱۵۰۔

2…المرجع السابق۔


 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن