30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{4}…حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ وہ باطل کو حق ثابت کرنے کے لئے قسم اُٹھائے۔
مذکورہ آیۂ مبارکہ کاشانِ نزول:
اس آیت ِ مبارکہ کا شانِ نزول یہ ہے کہ’’امرائُُ القیس بن عا بِس کِندی نے ربیعہ بن عبدان حضرمی کے خلاف شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں ایک زمین کے متعلق دعویٰ کیا کہ ا س نے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے گواہی طلب کی مگر وہ پیش نہ کر سکا تو آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دوسرے سے ارشاد فرمایا:’’تیرے لئے قسم ہے۔‘‘ پس وہ قسم کے لئے آگے بڑھا تو آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اگر اِس نے ظُلماً اُس کا مال کھانے کے لئے قسم اُٹھائی تویقینا اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے اِعراض فرمائے گا۔‘‘
اس موقع پر یہ آیت ِ مبارکہ نازل ہوئی۔ یعنی تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مباح کردہ صورتوں کے علاوہ ایک دوسرے کا مال نہ کھاؤ۔ (۱)
{5}… ایک قول کے مطابق اس سے مراد حاکم کو رِشوت دینا ہے۔
{6}…بعض مفسرین کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ سابقہ قول آیت ِ مبارکہ کے ظاہری معنی کے قریب ہے یعنی حکام کو رِشوت نہ دو کہ وہ تمہارے لئے دوسروں کے حقوق چھینیں۔ اور آیت ِ مبارکہ کے الفاظ کو بیان کردہ تمام صورتوں پر محمول کرنا بعید از قیاس نہیں کیونکہ یہ تمام باطل طریقے سے مال کھانے کو شامل ہیں۔
’’€6 €'‚‰ a€S‘‘سے مراد یہ ہے کہ حالانکہ تم اس کا باطل ہونا جانتے ہو اور بلاشبہ کسی کام کی قباحت کو جاننے کے باوجود اسے کرنا زیادہ قبیح ہے اور ایسا کرنے والا سزا کا زیادہ حق دار ہے۔
احادیث ِ مبارکہ میں رِشوت کی مُذمَّت:
{1}… حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صلَّی اللہ تَعَالٰی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب وعید من اقتطع…الخ، الحدیث:۳۵۸،ص۷۰۱۔
تفسیرالبغوی، البقرۃ، تحت الایۃ ۱۸۸،ج۱،ص۱۱۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع