30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہو۔اور’’ وَتُدْلُوۡابِہَاۤ اِلَی الْحُکَّامِ ‘‘ کا عطف لِتَاۡکُلُوۡا پر ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت سیِّدُنا اُبَیّ بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی قرأت میں ’’وَلاَ تُدْلُوْا بِہَا‘‘ہے اور بعض کا قول اس کے برعکس ہے۔ اِدْلَاء کا معنی ہے، سیرابی چاہنے کے لئے کنوئیں میں ڈَول ڈالنا اور (باب نَصَرَ سے) دَلَا کا معنی ہے کہ اس نے ڈَول باہر نکالا پھر ہر قول وفعل کی ادائیگی کو اِدْلَاء کہا جانے لگا۔ اس کا ایک معنی یہ ہے کہ ’’اَ دْلٰی بِحُجَّتِہٖیعنی اس نے اپنا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے دلیل پیش کی۔‘‘ گویا وہ اپنی مراد تک پہنچنے کے لئے دلیل دیتا ہے۔ اس کا ایک معنی یہ بھی ہے، ’’ اَدْلٰی اِلَی الْمَیِّتِ بِقَرَابَتِہٖ یعنی میت کی جانب اپنے قریبی رشتہ دار ہونے کی نسبت کرنا۔‘‘ تاکہ اس نسبت سے میراث حاصل کر سکے۔بِھَا کی ب تعدِیَّت (یعنی فعل کومتعدی بنانے) کے لئے ہے اور ایک قول کے مطابق یہ بائے سببیّت ہے اور اِدْلَاء سے مراد مالوں میں جھگڑا کرنا ہے۔ اور بِالْإثْمکی ب سببیَّت یا مصاحبت کی ہے۔
رِشوت کو اِدْلَاء سے تشبیہ دینے کی وجہ:
اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ یہ دور کی حاجت کو قریب کر دیتی ہے جیسا کہ پانی سے بھرا ہوا ڈول رسی کے ذریعے دُور سے قریب آ جاتا ہے، پس رشوت کے ذریعے دُور کی چیز نزدیک ہو جاتی ہے۔ یا پھر یہ ہے کہ رِشوت کے ذریعے حاکم بغیر ثبوت کے حکم کو ثابت اور نافذ کر دیتا ہے جس طرح رسی میں ڈول ہوتا ہے۔
باطل طریقے سے مال کھانے سے مراد:
اس کے متعلق چند اقوال ذکرکئے جاتے ہیں :
{1}…حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور ایک گروہِ مفسِّرِین کے نزدیک باطل طریقے سے مال کھانے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی امانتیں اور وہ چیزیں کھانا جن پر کوئی واضح دلیل نہ ہو۔
{2}… ایک قول کے مطابق اس سے مراد یہ ہے کہ وصی (جسے وصیت کی گئی ہو اس) کے پاس یتیم کا مال ہو جس میں سے کچھ مال وہ حاکم کے پاس بھیج دے تا کہ وہ اس کی سر پرستی اور فاسد تصرُّف میں باقی رہے۔
{3}… بعض نے حاکم تک مقدَّمہ پہنچانے سے جھوٹی گواہی مراد لی ہے اور بِھَا میں ھَا ضمیر مذکور کے معلوم ہونے کی وجہ سے اس کی طرف لوٹ رہی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع