30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قیامت کے دن جہنم میں پگھلائے یہاں تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات کو ثابت کرے۔‘‘ (۱)
غضب ِ الٰہی کے مستحق لوگ:
{5}…حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سیِّدعالم ،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جس نے حدُوْدُ اللہ میں سے کسی حد کو روکنے کی سفارش کی اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس کے مُلک میں مقابلہ کیا اور جس نے جھگڑے میں کسی کی مدد کی حالانکہ وہ نہیں جانتا کہ وہ حق پر ہے یا باطل پر، تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی میں رہے گا یہاں تک کہ اُسے چھوڑ دے اور جو کسی ایسی قوم کے ساتھ چلا جو سمجھتی ہو کہ یہ گواہ ہے حالانکہ وہ گواہ نہ ہو تو وہ جھوٹے گواہ کی طرح ہے اور جس نے جھوٹاخواب بیان کیا (بروزِ قیامت)اُسے پابند کیا جائے گا کہ جَو کے دانے کے دونوں کناروں کے درمیان گرہ لگائے اور مسلمان کو گالی دینا فسق اور (حلال جان کر) اُسے قتل کرنا کفر ہے۔‘‘ (۲)
{6}… مدینے کے تاجور ، رسولوں کے افسر صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عظمت نشان ہے: ’’جس نے کسی ظالم کی باطل کام پر مدد کی تاکہ وہ اس کے ذریعے حق کو دور کرے تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ذمہ سے بری ہے اور جوظالم کے ساتھ اس کی مدد کے لئے چلا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے خارج ہو گیا(۳)۔‘‘ (۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الترغیب والترھیب،کتاب القضائ،باب الترھیب من اعانۃ المبطل…الخ ،الحدیث:۳۴۳۹،ج۳،ص۱۵۱۔
2…المعجم الاوسط، الحدیث:۸۵۵۲،ج۶،ص۲۱۴۔
3…حضرت سیِّدُنا امام عبد الرء وف مناوی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی اسی حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں :’’وہ اسلام سے خارج ہے ‘ ‘ یہ کلام زجر توبیخ کے لئے ہے نہ کہ حقیقتًا اسلام سے خارج ہونا مراد ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے طریقے سے ہٹ گیایا اس سے مراد یہ ہے کہ اگر وہ اس کے ظلم اورظلم پر معاونت کو حلال جانے تب وہ اسلام سے خارج ہے۔(فیض القدیرللمناوی،تحت الحدیث:۹۰۴۹ ،ج۶، ص۲۹۷) اورمفسر شہیر حکیم الامت حضرت علامہ مولانامفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحنَّانمراۃ المناجیح، جلد 6، صفحہ679 پرفرماتے ہیں :’’چلنے سے مراد مطلقًا اس کی ظلم پر مدد دینا ہے۔ خواہ اس کے ساتھ چل کر ہو یا گھر میں بیٹھے بیٹھے، پھر خواہ زبان سے ہو یا قلم سے، ظلم کی مدد بہرحال حرام ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوٰنِ ۪ (پ۶،المائدۃ:۲)(اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو) فی زمانہ ظالموں سے زیادہ ظالموں کے حمایتی لوگ ہیں۔یعنی یہ ظالموں کے حمایتی اسلام کے نو ر سے نکل گئے یا اسلام کی حقیقت سے خارج ہوگئے کہ حقیقت اسلام یہ ہے کہ لوگ اس کے شر سے سلامت رہیں۔(مرقات)
4…المعجم الاوسط، الحدیث:۲۹۴۴،ج۲،ص۱۸۰۔ المعجم الکبیر، الحدیث:۶۱۹،ج۱،ص۲۲۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع