30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو عہدۂ قضاسے سب سے زیادہ بھاگنے والا پایا۔‘‘ (۱)
{6}…مالک بن منذر نے حضرت سیِّدُنا محمد بن واسع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کو بصرہ کا قاضی بنانے کے لئے بلوایا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے انکار کر دیا۔ پس اسے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ سے دشمنی ہو گئی اور کہنے لگا: ’’اس عہدے پر بیٹھ جاؤ ورنہ میں تمہیں کوڑے لگاؤں گا۔‘‘ توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہنے ارشاد فرمایا:’’اگر تم ایسا کرو گے تو کر سکتے ہو کیونکہ تم حاکم ہو، لیکن دنیاکی ذِلَّت آخرت کی ذِلَّت سے بہتر ہے۔‘‘ (۲)
{7}…حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۱۶۱ھ)سے کہا گیا کہ حضرت سیِّدُنا شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کوقاضی بنا دیا گیا ہے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہنے ارشاد فرمایا: ’’افسوس! انہوں نے کیسے شخص کو برباد کر دیا۔‘‘ (۳)
خلاصۂ کلام:
حاصلِ کلام یہ ہے کہ یہ عہدہ تمام عہدوں سے خطرناک اور تمام مشقتوں اور خرابیوں سے زیادہ بھیانک ہے۔ میں نے برے عہدۂ قضا کے بارے میں ایک مستقل تصنیف کی ہے جس کا نام’’جَمْرُ الغَضَا لِمَنْ تَوَلَّی الْقَضَا‘‘ ہے۔ اس میں قاضیوں کے ایسے انتہائی قبیح احوال اوربرے اعمال ذکر کئے ہیں جو سماعتوں اور طبیعتوں کو ناگوار گزرتے ہیں کیونکہ ایسے افعال پرجرأت یقین دِلاتی ہے کہ وہ پرہیزگار لوگوں میں سے نہیں بلکہ مسلمانوں میں سے بھی نہیں۔
ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس کے فضل وکرم سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ ( آمین)
۞۞۞۞۞۞۞
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر ، الرقم۳۳۰۲عبد اللہ بن زید،ج۲۸، ص۳۰۳۔
2…حلیۃ الاولیاء،محمد بن واسع، الرقم:۲۷۰۷،ج۲، ص۳۹۷۔
3…الکامل فی ضعفاء الرجال، الرقم۸۸۸ شریک بن عبد اللہ، ج۵،ص۱۳۔
کتاب الکبائر للذہبی، الکبیرۃ الحادیۃ والثلاثون:القاضی السوئ، ص۱۴۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع