30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
واضح ہے کیونکہ جاہل اور ظالم قاضیوں پر جہنمی ہونے کا حکم لگانا ایک سخت وعید ہے اور جب عہدۂ قضا کے متعلق شدید وعید ثابت ہو گئی تو اس کا مطالبہ وسوال کرنے کے بارے میں خودبخود ثابت ہو جائے گی اور آخری دو گناہوں کے متعلق دوسری اور تیسری حدیث ِ مبارکہ واضح ہے۔ اس بحث سے مذکورہ 5 گناہوں کو کبیرہ شمار کرنا واضح ہو جاتا ہے۔
عہدۂ قضا کے متعلق اسلاف کے فرامین:
{1}…حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ فرماتے ہیں : ’’قاضی کو چاہئے کہ ایک دن فیصلے کرے اور ایک دن اپنے آپ پر روئے۔‘‘ (۱)
{2}…حضرت سیِّدُنا محمد بن واسع رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ فرماتے ہیں :’’قیامت کے دن حساب کے لئے سب سے پہلے قاضیوں کو بلایا جائے گا۔‘‘ (۲)
{3}…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ میں نے شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن، اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سنا:’’ہر قاضی اوروالی(یعنی ذمہ دار)کو قیامت کے دن لایا جائے گا یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پل صراط پر کھڑا کیا جائے گا اور پھر اس کا نامہ ٔ اعمال کھول کر تمام مخلوق کے سامنے پڑھا جائے گا، اگر وہ عادل ہوا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے عدل کی وجہ سے اُسے نجات دے گا اور اگر عادل نہ ہوا تو پل ٹوٹنے لگے گا اور اس کے تمام اعضا کے درمیان اتنا اتنا(یعنی بہت زیادہ ) فاصلہ ہو جائے گا، پھرجہنم کی طرف پل میں شگاف پڑ جائے گا۔‘‘ (۳)
{4}…حضرت سیِّدُنا مکحول رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ فرماتے ہیں :’’اگر مجھے منصب ِ قضا اور قتل کئے جانے کے درمیان اختیار دیا جاتا تو میں اپنے قتل کئے جانے کو پسند کرتا اور عہدۂ قضا کو اختیار نہ کرتا۔‘‘ (۴)
{5}…حضرت سیِّدُناابو ایوب سختیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَ انِی فرماتے ہیں :’’میں نے لوگوں میں سب سے زیادہ علم والے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المجالسۃ وجواھر العلم،الرقم ۳۲۸،ج۱،ص۱۷۲۔
2…المجالسۃ وجواھر العلم،الرقم ۳۲۷،ج۱،ص۱۷۲۔
3…کتاب الکبائرللذہبی، الکبیرۃ الحادیۃ والثلاثون:القاضی السوئ، ص۱۴۷۔
4…تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر ، الرقم۷۶۲۲ مکحول بن دبر، ج۶۰، ص۲۲۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع