دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal Jild 2 | جہنم میں لے جانے والے اعمال جلد 2

book_icon
جہنم میں لے جانے والے اعمال جلد 2

خفیہ طور پر ہی ایسا کرتے ہوں تو اس صورت میں بالاتفاق ان کی غیبت نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے۔ مثلاً کوئی شخص کسی سے مشورہ کرے اگرچہ شادی کے ارادے سے مشورہ نہ کرے یا دینی یا دنیوی معاملے میں کسی غیر سے مل بیٹھنے کا مشورہ نہ کرے بشرطیکہ اس دوسرے کے قبیح ہونے کا صرف اسے ہی علم ہو جیسے فسق، بدعت، لالچ وغیرہ مثلاً شادی کے معاملے میں تنگ دستی جیسے معاملات (کا صرف اسے ہی علم ہو جس سے مشورہ لیا گیا ہو) جیسا کہ حضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے نکاح کرنے سے منع کرنے کے متعلق حدیث ِ پاک آگے آ رہی ہے۔ پھر اگر اصلاح عیب ذکر کرنے پر موقوف ہو تو عیب ذکر کرے لیکن اس پر زیادتی کرنا جائز نہیں یاپھر عیب دو ہوں تو انہیں ہی بیان کرے کیونکہ یہ مجبور کے لئے مردار کھانے کی طرح ہے جس کے لئے اس سے بقدرِ ضرورت ہی کچھ لینا جائز ہوتا ہے۔ ہاں ! اس سے اللہ عَزَّوَجَلَّکی رضا کے لئے نصیحت کا ارادہ ہو نہ کہ کسی اور فائدے کا۔ لیکن اکثر اوقات انسان اس سے غافل ہوجاتا ہے اور شیطان اس پر مسلَّط ہو جاتا ہے اور اسے اس وقت اس کام پر ابھارتا ہے جبکہ اس کا نصیحت کرنے کاارادہ نہیں ہوتا اور اسے مطمئن کرتا ہے کہ یہ نصیحت ہی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی عہدہ پر فائز شخص اگر کسی ناشائستہ حرکت کا شکار ہو جائے۔ جیسے فسق یا غفلت وغیرہ تو ایسے شخص سے اس بات کا ذکر کرنا واجب ہے جو اس کو معزول کرنے، کسی دوسرے کو والی بنانے یا اسے نصیحت کرنے اور استقامت پر ابھارنے پر قادر ہو۔

پانچویں :جو اعلانیہ فسق یا بدعت کا ارتکاب کرے جیسے بھتہ لینے والے، اعلانیہ شراب کے عادی اور باطل ولایت والے پس ان کے اعلانیہ گناہ کا ذکر کرنا جائزہے لیکن کسی دوسرے عیب کا ذکر کرنا جائز نہیں مگر یہ کہ اس کا کوئی اور سبب ہو۔

حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) فرماتے ہیں : ’’اَ ذْکَارُالنَّوَوِی‘‘ میں ہے کہ اس کی غیبت کرنا جائز ہے جو اپنے فسق یا بدعت کا اعلانیہ ارتکاب کرتا ہو جیسے اعلانیہ شراب پینے والا،بھتہ اور ظلما ً مال لینے والا ۔ پس جس چیز کا وہ اعلانیہ ارتکاب کرے اس کا ذکر جائز ہے اور اس کے علاوہ عیوب کو بیان کرنا جائز نہیں۔ (۱)

چھٹی: عیب ذکر کرنے سے کسی کی برائی مقصود نہ ہو بلکہ اس کی معرفت وشناخت مقصود ہو تو عیب ذکر کرناجائز ہے مثلاً کسی کا ایسا لقب ذکر کرنا جیسے اندھا، نابینا، بہرہ اور گنجا وغیرہ کہنا اگرچہ اس کی پہچان اس کے بغیر بھی ہو سکتی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1الاذکار للنووی،کتاب حفظ اللسان،باب بیان ما یباح من الغیبۃ، ص۲۷۲۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن