30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے حقوق ضائع کر دئیے وہ جہنم میں ہے اور (۳) جس نے حق کے مطابق فیصلہ کیا وہ جنت میں ہے۔‘‘ (۱)
سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کا عہدۂ قضا قبول نہ کرنا:
{4}… امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی ذوالنورین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے ارشاد فرمایا:’’جاؤ اور قاضی بن جاؤ۔‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی:’’اے امیر المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ! کیا آپ مجھے اس سے معاف فرمائیں گے؟‘‘ امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پھر ارشاد فرمایا:’’جاؤ اور لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو۔‘‘ تو انہوں نے دوبارہ عرض کی:’’اے امیر المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ! مجھے اس سے معافی دے دیجئے ۔‘‘ توامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:’’میں نے تمہیں قاضی بنا کر بھیجنے کا پختہ ارادہ کر لیا ہے۔‘‘ تو انہوں نے عرض کی: ’’جلدی نہ کیجئے! میں نے رحمت ِ عالم ،نُورِ مجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے پناہ مانگی تحقیق اس نے ایسی ہستی سے پناہ مانگی جس سے پناہ مانگی جاتی ہے۔‘‘ تو امیر المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:’’ہاں ! ایسا ہی ہے۔‘‘تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی: ’’پس میں قاضی بننے سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ طلب کرتا ہوں۔‘‘ امیر المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دریافت فرمایا: ’’تمہیں کس چیز نے قاضی بننے سے روکا حالانکہ تمہارے والد بھی توفیصلے کیاکرتے تھے ؟‘‘ عرض کی: ’’اس لئے کہ میں نے حضور نبی ٔ پاک صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سنا: ’’جو قاضی تھا اور جہالت کی وجہ سے ناحق فیصلہ کیا تووہ جہنمیوں میں سے ہے اور جو قاضی تھا اور اس نے ظلم کے ساتھ فیصلہ کیا تو وہ بھی جہنمی ہے اور جو قاضی تھا اور اس نے عدل وانصاف سے فیصلہ کیا تو اس نے برابری کی بنیاد پر جاں بخشی کا سوال کیا۔‘‘ میں اس کے بعد کس چیز کی اُمیدکروں ؟‘‘ (۲)
{5}… حضرت سیِّدُنا امام محمد بن عیسیٰ ترمذی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی(متوفی۲۷۹ھ)نے اس روایت کو مختصراً بیان کیا ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے عرض کی:’’میں نے حضورنبی ٔمُکَرَّم،نُورِ مجسَّمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے سنا کہ جو قاضی تھا اور اس نے عدل وانصاف سے فیصلہ کیا تو یہ اس لائق ہے کہ برابری کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…جامع الترمذی، ابواب الاحکام،باب ماجاء عن رسول اﷲﷺفی القاضی، الحدیث:۱۳۲۲،ص۱۷۸۵،بتغیرٍقلیلٍ۔
2…الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب القضائ، الحدیث:۵۰۳۴،ج۷،ص۲۵۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع