30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شرحِ حدیث:
حضرت سیِّدُنا امام خطابی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی( متوفی۳۸۸ھ)اس حدیث ِ پاک کی وضاحت میں فرماتے ہیں : ’’اس کا معنی یہ ہے کہ چھری کے ساتھ ذبح کرنے سے روح نکلنے کی تکلیف جلدی ختم ہونے کی وجہ سے ذبیحہ کو سکون ملتا ہے لیکن جب اسے چھری کے بغیر ذبح کیا جائے تو یہ اس کے لئے زیادہ تکلیف دِہ ہے۔‘‘
ایک قول کے مطابق ظاہری عرف وعادت میں چھری کے ساتھ ذبح کیا جاتا ہے مگر آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ظاہری عادت سے ہٹ کر دوسرا معنی مراد لیا تاکہ معلوم ہو جائے کہ اس قول سے آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مراد اس کے دِین کی ہلاکت کا خوف ہے نہ کہ بدن کی ہلاکت کا۔ اس کے علاوہ اوراحتمالات بھی ہو سکتے ہیں لیکن ہر اعتبار سے اس سے مراد یہ ہے کہ قاضی نے عہدۂ قضا قبول کر کے خود کو ایسی مشقت کے لئے پیش کر دیا ہے کہ جسے عادتاً برداشت نہیں کیا جاتا اور اس کی وجہ سے وہ عذابِ جبار وغضب ِ قہار کا مستحق ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اسلافِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس سے انتہائی نفرت کی۔نیزعہدۂ قضا قبول نہ کرنے والے کو فاسق قرار نہیں دِیا جائے گا اگرچہ اس پر یہ ذمہ داری قبول کرنا لازم ہو جائے کیونکہ اس کی عذر خواہی محض اس اندیشہ کی وجہ سے ہے کہ اس عہدہ کو قبول کرنے والا اکثر بے شمار ہلاکتوں اور فتنوں کا شکار ہو جاتا ہے۔
قاضی 3 طرح کے ہیں :
{2}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’قاضی (فیصلہ کرنے والے) 3 طرح کے ہیں : ایک جنت میں ہے اور دو جہنم میں (۱)جنت میں وہ ہے جس نے حق جان کر اس کے مطابق فیصلہ کیا (۲) جس نے حق جانتے ہوئے فیصلے میں ظلم کیا وہ جہنم میں ہے اور(۳) جس نے نہ جانتے ہوئے لوگوں میں فیصلہ کیا وہ بھی جہنم میں ہے۔‘‘ (۱)
{3}…سیِّدعالم ،نُورِ مجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’قاضی 3 قسم کے ہیں : دو جہنم میں اور ایک جنت میں : (۱)جس نے حق کو جانتے ہوئے ناحق فیصلہ کیا وہ جہنم میں ہے (۲) جس نے نہ جانتے ہوئے لوگوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن ابی داود،کتاب القضائ، باب فی القاضی یخطئ، الحدیث:۳۵۷۳،ص۱۴۸۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع