30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کبیرہ نمبر415:اسلام کے علاوہ کسی مذہب کی جھوٹی قسم کھانا
بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اسے اسی طرح ذکر کیا ہے مگر اس میں غور وفکر کی ضرورت ہے اور ظاہر یہ ہے کہ اس سے وہی مراد ہے جو بعض جاہلوں کے بیان کردہ اس قول سے مراد ہے کہ ’’اگر اس نے ایسا کیا تو وہ یہودی ہے۔‘‘ لیکن اس کا گناہِ کبیرہ ہونا جھوٹ پر موقوف نہیں بلکہ اس کا کہنے والا فاسق ہو جائے گا اگرچہ وہ جھوٹا نہ ہو کیونکہ معلَّق کرنا کفر کا احتمال رکھتا ہے بلکہ یہ اس میں واضح ہے خواہ اس کی یہ مراد نہ ہو۔ حضرت سیِّدُنا امام یحییٰ بن شرف نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۶۷۶ھ)کی کتاب’’اَلاَذْکَار‘‘ میں ہے: ’’اگر کسی نے کہا کہ وہ یہودی یا نصرانی ہے یا ان جیسے دیگر الفاظ کہے تو اگر اس نے اپنے ان اقوال کے ذریعے اسلام سے خارج ہونے کو معلق کرنے کا ارادہ کیا تو وہ فوراً کافر ہو گیا اور اس پر مرتدین کے احکام جاری ہوں گے اور اگر اسلام سے نکلنے کا ارادہ نہ کیا تو وہ حرام کام کا مرتکب ہوا لہٰذا اس پر سچی توبہ واجب ہے وہ یوں کہ وہ نافرمانی سے رُک جائے اور اپنے فعل پر شرمسار ہو اور دوبارہ کبھی ایسا نہ کرنے کا عزم کرے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مغفرت چاہے اور کہے:لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ یعنی اللہ(عَزَّوَجَلَّ) کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں محمد(صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) اللہ(عَزَّوَجَلَّ) کے رسول ہیں۔‘‘ (۱)
استغفار کرنا اور کلمۂ شہادت پڑھنا دونوں مستحب ہیں۔
باب النذر
کبیرہ نمبر416: نذر پوری نہ کرنا (خواہ وہ نذرعبادت کی ہو یا جھگڑے کی )
اسے کبیرہ گناہ شمار کرنا واضح ہے کیونکہ یہ اس حق کو ادا کرنے سے رکنا ہے جس کی ادائیگی فی الفور لازم ہے۔ پس یہ زکوٰۃ ادا نہ کرنے کی طرح ہے کیونکہ ہمارے نزدیک صحیح یہ ہے کہ جس طرح نذر کے احکام میں واجب ِ شرعی کا طریقہ اپنایا جاتا ہے اسی طرح اسے چھوڑنے کے بہت بڑے گناہ میں واجب کا طریقہ اپنایا جائے گااور اس سے یہ حکم ثابت ہوتا ہے کہ اسے چھوڑنا کبیرہ گناہ اور فسق ہے۔
۞۞۞۞۞۞۞
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الاذکارللنووی،کتاب حفظ اللسان، باب فی الفاظ یکرہ استعمالہا، ص۲۸۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع