30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہاں انہوں نے اشارہ کیا ہے کہ معذرت کے واجب نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ مجنون اور بچے کی غیبت کرناجائز ہے اور اس کے لازم ہونے کی کوئی وجہ نہیں اورغیرمکلّف کی غیبت سے توبہ آئندہ بیان ہونے والے چند ارکان پر موقوف ہے یہاں تک کہ معذرت بھی ان ارکان میں شامل ہے۔ لیکن اگر وہ مر گیا اور توبہ کی باقی شرائط پائی گئیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّکا حق ساقط ہو جائے گا لیکن بندے کا حق باقی رہے گا۔
تنبیہ2: غیبت کی جائز صورتیں
غیبت میں چونکہ اصل وہ حرمت ہے جوکبھی واجب ہوتی ہے یا پھر کسی ایسی صحیح شرعی غرض کی وجہ سے کبھی مباح ہوتی ہے کہ جس کا حصول اس کے بغیر نہیں ہو سکتا۔پس غیبت کے جواز کی چھ صورتیں ہیں :
پہلی :مظلوم یعنی جس پر ظلم کیا گیا ہو وہ ایسے شخص کو شکایت کرے جس کے متعلق اسے یقین ہو کہ وہ ظلم کو ختم یاکم کر سکتا ہے۔
دوسری : کسی شخص کو برے کام سے روکنے کے لئے مدد طلب کرتے ہوئے ایسے شخص سے تذکرہ کرنا جس کے متعلق برائی مٹانے کی قدرت کا یقین ہو مثلاً اصلاح کی نیت سے بتانا کہ فلاں اس برائی میں ملوَّث ہے، آپ اسے سمجھائیے۔ جبکہ وہ اعلانیہ گناہ کرتا ہووگرنہ ایساکرنا غیبت ہے جوکہ حرام ہے ۔
تیسری : مفتی سے یہ کہہ کر فتویٰ طلب کرنا کہ فلاں نے مجھ پر اس طرح ظلم کیا، کیا اس کے لئے ایسا کرنا جائز ہے؟ اور اس سے چھٹکارا پانے یا اپنا حق حاصل کرنے کے لئے میں کون سا طریقہ اختیار کروں ؟ ہاں ! افضل یہ ہے کہ وہ اس کانام مبہم رکھے اور اس طرح کہے: ’’ آپ اس مرد یا عورت کے فلاں معاملے کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ کیونکہ مقصد تو اس سے بھی حاصل ہوجاتا ہے۔ البتہ! صراحتاً اس کانام لینا بھی جائز ہے، کیونکہ مفتی کبھی اس کی تعیین سے وہ معنی حاصل کر لیتا ہے جو ابہام سے حاصل نہیں کر سکتا۔ لہٰذا نام ذکر کرنے میں مصلحت پائی جاتی ہے جیسا کہ حضرت سیِّدُنا سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بیوی ہند کی روایت میں آیا ہے۔
چوتھی: مسلمانوں کو شر سے بچانا اور انہیں نصیحت کرنا۔ جیسے راویوں ، گواہوں ،مصنِّفین اور افتاء یا اداروں کے نااہل، فاسق یا بدعتیمُتَصَدِّین(یعنی فتوی دینے والوں )کی جرح کرنا جبکہ وہ اپنی بدعت کی طرف بلاتے بھی ہوں اگرچہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع