30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{3}… سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’جو امانت کی قسم کھائے وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘ (۱)
{4}…میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفیصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’جس نے قسم اٹھائی اورکہا کہ میں اسلام سے بری ہوں اگر وہ جھوٹاہو تووہ ایسا ہی ہو جائے گا جیسا اس نے کہا اور اگر سچا ہو توپھر بھی سلامتی کے ساتھ اسلام کی طرف نہ لوٹے گا۔‘‘ (۲)
{5}…حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے متعلق مروی ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا: ’’نہیں ، کعبہ کی قسم!‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:غیراللہ کی قسم نہ کھاؤ کیونکہ میں نے حضور نبی ٔاکرم ،نور مجسم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سنا کہ ’’جس نے غیراللہ کی قسم کھائی بلاشبہ اس نے کفرو شرک کیا(۳)۔‘‘ (۴)
بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ مذکورہ فرمانِ مصطفی سختی پر محمول ہے جیسے حدیث پاک ہے کہ ’’ریاکاری شرک ہے۔‘‘ (۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن ابی داؤد،کتا ب الأیمان والنذور، باب کراہیۃ الحلف بالامانۃ، الحدیث:۳۲۵۳، ص۱۴۶۷۔
2…المرجع السابق، باب ماجاء فی الحلف بالبرائَ ۃ وبملۃ غیر الإسلام، الحدیث:۳۲۵۸۔
3…مفسر شہیر حکیم الامت حضرت علامہ مولانامفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحنَّانمراٰۃ المناجیح ،جلد5، صفحہ194پرایک حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’ یعنی غیر خدا کی قسم کھانے سے منع فرمایا گیا چونکہ اہل عرب عموماً باپ دادوں کی قسم کھاتے تھے اس لیے اسی کا ذکر ہوا، غیر خدا کی قسم کھانا مکروہ ہے، وہ جو حدیث شریف میں ہے: اَفْلَحَ وَاَبِی یعنی قسم میرے والد کی وہ کامیاب ہوگیا وہ قسم شرعی نہیں محض تاکید کلام کے لیے ہے اور یہاں شرعی قسم سے ممانعت ہے یا وہ حدیث اس حدیث سے منسوخ ہے ،یا وہ بیان جواز کے لیے ہے یہ حدیث بیان کراہت کے لیے۔ایک اور حدیث کی شرح میں فرمایا:’’یعنی اگر بھول کر لات و عزیٰ کی قسم کھالے تو کفار ہ کے لیے کلمہ طیبہ پڑھ لے کہ نیکیاں گناہ کو مٹا دیتی ہیں اور اگر دیدہ دانستہ بتوں کی تعظیم کرتے ہوئے ان کی قسم کھائی ہے توکافرہوگیا، دوبارہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو، لات و عزیٰ مکہ والوں کے دو مشہور بت تھے جو کعبہ معظمہ میں رکھے ہوئے تھے اب جو گنگا ، جمنا یا رام لچھن کی قسم کھائے اس کا حکم بھی یہی ہے اس سے معلوم ہوا کہ اس جیسی قسم میں کفارہ نہیں صرف یہ ہی حکم ہے جو یہاں مذکور ہوا۔
4…جامع الترمذی، ابواب النذور والأیمان، باب ماجاء فی ان من حلف بغیر اﷲ فقد اشرک، الحدیث:۱۵۳۵،ص۱۸۰۹۔
5…المرجع السابق۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع