30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث ِ پاک کی وضاحت:
عصر کے بعد کی قید اس لئے ہے کہ اس وقت جھوٹی قسم زیادہ قبیح ہے۔ لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ اس شدید سزا کا مستحق ہونے کے لئے یہ (یعنی بعد ِعصر جھوٹی قسم کھانا)شرط ہے۔تیسرے گناہ کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا حضرت سیِّدُنا امام زرکشی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے اس کلام سے ثابت ہے کہ ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ اس میں ایک بحث کا آغاز ہو رہا ہے جس کی طرف حضرت سیِّدُنا امام رافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ)نے اپنے اس قول سے اشارہ فرمایا کہ قسم کو جھوٹ کے ساتھ مقیَّد کرنے کی بعض صورتوں میں توقُّف کی گنجائش ہے اور کہا جاتا ہے کہ بے شک قسموں کی کثرت اگرچہ وہ سچی ہوں ، فسق کا تقاضا کرتی ہے جیسے جھگڑوں کی کثرت کے متعلق کہا گیا۔‘‘
اس کا بھی احتمال ہے اور اس کے خلاف کا بھی احتمال ہے اور وہی حق کے زیادہ قریب ہے کیونکہ جھگڑے اگرچہ حق بات پر ہوں پھر بھی اُن کی کثرت ناجائز کاموں میں مبتلا کردیتی ہے۔ یہاں تو مختصر کلام کیا گیا عنقریب اس کی تفصیل آئے گی۔
حاصلِ کلام:
مذکورہ احادیث ِمبارکہ سے معلوم ہوا کہ یمینِ غموس (یعنی جھوٹی قسم) وہ ہے جو انسان جان بوجھ کر اٹھاتا ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ حقیقت اس کے برعکس ہے تا کہ وہ باطل کو حق ثابت کرے یا اس کے ذریعے حق کو باطل کر دے جیسا کہ ا س کے ذریعے کسی معصوم کا مال ہڑپ کر لے خواہ وہ غیر مسلم ہی ہو جیسا کہ ظاہر ہے اور جن علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے یہاں صرف مسلمان کا اعتبار کیا ہے تو انہوں نے غالب پر عمل کیا ہے اور اسے غموس اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ دنیا میں قسم کھانے والے کو گناہ میں ڈبو دیتی ہے اور قیامت کے دن جہنم میں غرق کرے گی۔ گزشتہ احادیث ِ مبارکہ میں اَلْیَمِیْنُ الصَّابِرَۃُ، صَبْرٌ اور مَصْبُوْرٌ کے اصطلاحی الفاظ حکم کے اعتبار سے قسم کھانے والے کو لازم ہیں۔ پس اسے اس کی وجہ سے روکا جاتا ہے اور صبر کی اصل روکنا ہے۔ اسی سے عربوں کا قول ہے: ’’ قُتِلَ فُلَانٌ صَبْرًایعنی فلاں کو ظُلماًروک کر قتل کر دیا گیا۔‘‘
۞۞۞۞۞۞۞
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع