30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قسم کا فدیہ ادا کیا ہے۔‘‘ (۱)
{28}…اسی طرح حضرت سیِّدُنا اَشْعَث بن قَیْسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی قسم کے بدلے 7 ہزار(درہم) ادا کئے۔ (۲)
تنبیہ:پہلے گناہ کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے جس کی مذکورہ احادیث ِ مبارکہ میں وضاحت ہو چکی ہے جن میں کبھی اسے کبیرہ گناہ اور کبھی اکبر الکبائر کہا گیا ہے جو ایک شدید وعید ہے بلکہ اس سے شدید وعید کوئی نہیں۔ اسی وجہ سے شافعی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اس کے گناہِ کبیرہ ہونے پر اتفاق ہے اوردوسرے گناہ کو کبیرہ گناہ قرار دینا سابقہ اس صحیح حدیث ِ پاک سے واضح ہے کہ’’ جس نے میرے نام پر جھوٹی قسم کھائی اس نے میری عظمت کو نہ جانا ۔‘‘ (۳) کیونکہ اس میں بہت بڑی ڈانٹ اور سخت وعید ہے۔ پھر میں نے اس کی صراحت کرنے والا یہ کلام پایا کہ ہمارے بعض (شافعی)ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامجیسے صَاحِبُ العُدَّۃ نے اسے یَمِیْنِ فَاجِرَہ کہا اورحضرت سیِّدُنا امام زرکشی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اس کی وضاحت یہ فرمائی کہ ایسی قسم جو جھوٹ کو شامل ہو اگرچہ وہ سابقہ معنی کے اعتبار سے جھوٹی نہ ہو۔
یمینِ غموس کا مفہوم:
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ مزیدفرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ جھوٹی قسم ہے جو ناحق اٹھائی جائے یا جس کے ذریعے کسی کا حق باطل کیا جائے اور اسے غموس کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ قسم، اُٹھانے والے کو جہنم میں ڈال دیتی ہے۔ ان کے قول ’’جو ناحق اٹھائی جائے‘‘ سے مرا دیہ ہے کہ اگرچہ اس کی وجہ سے حق باطل نہ ہو اور حضرت سیِّدُنا امام زرکشی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے گزشتہ کلام سے پیدا ہونے والے وہم کے برعکس اسے اصطلاحاً غموس نہیں کہا جا تا۔اسے کبیرہ گناہ شمار کرنے کی تائید میں دو روایات ملاحظہ فرمائیے۔ چنانچہ،
{29}… حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی:’’میں نے گناہوں کا ارتکاب کیا ہے، لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ آپ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الاوسط، الحدیث:۸۸۱،ج۱،ص۲۵۶،’’ورب الکعبۃ‘‘بدلہ’’ورب ہذا المسجد‘‘۔
2…المرجع السابق، الحدیث:۱۵۵۹،ص۴۲۵۔
3…المعجم الاوسط، الحدیث: ۷۳۲۴،ج۵،ص۲۷۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع