30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جھوٹی قسم کھائے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘ (۱)
{19}…سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ بابرکت ہے:’’جو شخص جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا مال دبا لیتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ بن جاتا ہے جسے قیامت تک کوئی چیز تبدیل نہ کر سکے گی۔‘‘ (۲)
{20}…شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے اجازت دی کہ ایک مُرغ(۳)کے بارے میں بتاؤں جس کے پاؤں زمین کے نیچے تک پہنچے ہوئے ہیں اور گردن عرشِ (الٰہی) کے نیچے جھکی ہوئی ہے اور وہ کہتا ہے: ’’سُبْحَانَکَ مَا اَعْظَمَکَ رَبَّنَا یعنی اے ہمارے پروردگار عَزَّوَجَلَّ! تو پاک ہے، تیری شان کتنی بلند ہے۔‘‘ تو اسے جواب دیا جاتا ہے:’’ جس نے میرے نام پر جھوٹی قسم کھائی اس نے میری عظمت کو نہیں جانا۔‘‘ (۴)
{21}… اللہ عَزَّوَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیوب ،منزہ عن الْعُیوبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشادفرماتے ہیں : ’’جس نے (جھوٹی) قسم کے ذریعے کسی کا مال ہڑپ کیا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر جنت حرام کر دے گا اور اس کے لئے جہنم واجب کر دے گا۔‘‘ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی:’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگرچہ وہ تھوڑی سی چیز ہو۔‘‘ ارشاد فرمایا:’’اگرچہ وہ ایک تسمہ ہی ہو۔‘‘ (۵)
{22}…حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’جس نے (جھوٹی) قسم کے ذریعے کسی شخص کا مال ہڑپ کر لیا اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے جہنم واجب کر دے گا اور اس پرجنت حرام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المستدرک،کتاب الأیمان والنذور، باب الاحادیث المنذرۃ عن یمین کاذبۃ، الحدیث:۷۸۷۲،ج۵،ص۴۱۹۔
2…المرجع السابق، الحدیث:۷۸۷۰،ص۴۱۸۔
3…حضرت سیِّدُنا امام عبد الرء ُوف مناوی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی مذکورہ حدیث ِپاک میں وارد لفظِ دِیْک کی تشریح میں فرماتے ہیں : ’’یہاں دِیْک سے مراد حقیقی مرغ نہیں بلکہ مرغ کی صورت کا ایک فرشتہ ہے جیسا کہ اس کی تصریح دوسری حدیث پاک میں ہے کہ ’’آسمان میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ایک فرشتہ ہے جس کا نام دِیْک ہے۔‘‘(فیض القدیر للمناوی، تحت الحدیث:۱۶۸۰،ج۲،ص۲۶۳)
4…المعجم الاوسط، الحدیث:۷۳۲۴،ج۵،ص۲۷۸۔
5…المعجم الکبیر،الحدیث:۱۷۸۲،ج۲،ص۱۹۲،’’شراکا‘‘بدلہ’’سواکا‘‘۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع