30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{5}… حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمتصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’جس نے کسی مسلمان کا مال لینے کے لئے جھوٹی قسم کھائی وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کوڑھی ہو کر ملے گا۔‘‘ (۱)
{6}…حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوف رَّحیمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ اقدس میں دو شخص ایک زمین کا جھگڑا لے کر حاضر ہوئے، ان میں سے ایک حَضْرَمَوت کا تھا آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان میں سے ایک کے لئے قسم متعین کی تو دوسرے شخص نے پکار کر کہا: ’’یوں تو یہ میری زمین لے جائے گا۔‘‘ حضور نبی ٔپاک صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’اگر اس نے قسم کے ذریعے ظلماً مال لے لیا تو یہ ان میں سے ہو گا جن کی طرف بروزِقیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ نظررحمت نہیں فرمائے گا اور نہ ہی اسے پاک کرے گا اور اس کے لئے درد ناک عذاب ہے۔‘‘اس پر دوسرا شخص ڈر گیا اور زمین لوٹا دی۔ (۲)
حدیث ِ پاک کی لُغوی تشریح:
حضرت سیِّدُناحافظ زکی الدین منذری عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :’’یہ واقعہ دوسرے اندازمیں بھی وارد ہے۔اور’’وَرِعَ ‘‘راء کے کسرہ کے ساتھ ہو تو معنی یہ ہو گا کہ وہ گناہ سے بچ گیا اور اپنے ارادے سے باز آگیا اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ راء کے فتحہ کے ساتھ وَرَعَ ہو یعنی وہ پست ہمت ہوگیا اور راء کے ضمہ کے ساتھ وَرُعَ ہو توبھی یہی معنی ہے مگر پہلا معنی زیادہ بہتر ہے۔‘‘ (۳)
{7}…سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’کبیرہ گناہ یہ ہیں : اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھانا۔‘‘ (۴)
{8}… ایک روایت میں ہے کہ ایک اعرابی میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفیصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن ابن ماجہ، ابواب الاحکام، باب من حلف …الخ، الحدیث:۲۳۲۳، ص۲۶۱۶۔
الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان،کتاب الدعوی، باب الاستحلاف، الحدیث:۵۰۶۵،ج۷، ص۲۷۲۔
2…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث ابی موسی الاشعری، الحدیث:۱۹۵۳۱،ج۷،ص۱۲۹۔
3…الترغیب والترہیب،کتاب البیوع،باب الترہیب من الیمین الکاذبۃ الغموس،تحت الحدیث:۲۸۵۱،ج۲،ص۳۹۸۔
4…صحیح البخاری،کتاب الأیمان والنذور، باب الیمین الغموس، الحدیث:۶۶۷۵،ص۵۵۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع