30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یَشْتَرُوۡنَ بِعَہۡدِ اللہِ وَاَیۡمٰنِہِمْ ثَمَنًا قَلِیۡلًا …الخ(پ۳، اٰل عمران : ۷۷)۔ (۱)
{3}…حضورنبی ٔمُکَرَّم،نُورِ مجسَّمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ بیکس پناہ میں شہرِحَضْرَمَوت کا ایک شخص اور قبیلہ کِنْدَہ کا ایک شخص حاضر ہوا۔ حضرمی نے عرض کی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اس نے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے جو میرے باپ کی تھی۔‘‘ توکندی کہنے لگا: ’’یہ زمین میرے ہی قبضہ میں تھی، میں اس میں کاشت کاری کرتا ہوں ، اس کا اس میں کوئی حق نہیں ۔‘‘ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرمی سے دریافت فرمایا: ’’کیا تیرے پاس گواہ ہیں ؟‘‘عرض کی: ’’نہیں ۔‘‘ارشاد فرمایا:’’اب تیرے لئے اس کی قسم ہے۔‘‘ اس نے عرض کی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ جھوٹا شخص ہے، کسی چیز پرجھوٹی قسم کھانے کی پرواہ نہیں کرتا اور نہ ہی کسی چیز سے بچتا ہے۔‘‘ تو آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’اس کی طرف سے تیرے لئے صرف یہی ہے۔‘‘ تو کِندی شخص قسم کھانے کے لئے چلا جب اس نے(قسم کھانے کے لئے) پیٹھ پھیری تو آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اگر اِس نے اُس کا مال ظلماً کھانے کے لئے قسم کھائی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس سے اعراض فرمائے گا(یعنی اس پرنظرِرحمت نہیں فرمائے گا)۔‘‘ (۲)
{4}…شہرِ حَضْرَمَوتکے ایک شخص اور قبیلہ کِنْدَہکے ایک شخص نے رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں یمن کی ایک زمین کے متعلق اپنا جھگڑا پیش کیا، حضرمی نے عرض کی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میری زمین اس کے باپ نے چھین لی تھی، اب وہ اس کے قبضے میں ہے۔‘‘ توآپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا:’’کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟‘‘ عرض کی:’’نہیں ، لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم کھا تا ہوں کہ یقینا یہ زمین میری ہے جو اس کے باپ نے غصب کر لی تھی۔‘‘ کِندی بھی قسم کھانے کے لئے تیار ہو گیا تو آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جو (جھوٹی) قسم کھا کر کسی کا مال(ناحق) دبائے گا وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے کوڑھی ہو کر ملے گا۔‘‘ یہ سن کرکِندی نے کہہ دیا کہ یہ زمین اسی کی ہے۔‘‘ (۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم،کتاب الإیمان،باب وعید من اقتطع حق مسلم بیمین فاجرۃ بالنار،الحدیث:۳۵۵،۳۵۶،ص۷۰۱۔
2…المرجع السابق، الحدیث:۳۵۸۔
3…سنن ابی داود،کتاب الأیمان والنذور، باب فیمن حلف لیقتطع بھا مالا، الحدیث:۳۲۴۴،ص۱۴۶۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع