30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سیِّدُنا علامہ جلال بلقینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی کے اعتراضات اور ان کے جوابات
اعتراضات:
(۱)…غیبت پر عذاب کی کوئی وعید احادیث ِ مبارکہ میں نہیں آئی۔(۲)…مذکورہ حدیث ِ پاک اس کے کبیرہ ہو نے پر دلالت نہیں کرتی بلکہ اس کی حرمت اور اس سے جھڑکنے پر دلالت کرتی ہے۔
جوابات:
دوسرے اعتراض کا جواب تو بالکل واضح ہے کیونکہ یہ بات کسی پر مخفی نہیں کہ مذکورہ حدیث ِ پاک میں بیان کردہ عذاب انتہائی شدید عذاب ہے اور کبیرہ تو ہوتا ہی وہ گناہ ہے جس میں شدید وعید پائی جائے اور یہ بھی ایک شدید وعید ہی ہے۔
پہلے اعتراض کا جواب بھی واضح ہے کیونکہ جس نے بھی میری ذکر کردہ احادیث مبارکہ میں غور و فکر کیا وہ جان لے گا کہ غیبت میں شدیدترین اوربہت بڑا عذاب پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ صحیح احادیث مبارکہ میں ہے کہ [(۱)…غیبت سود سے بڑھ کر ہے (۲)…اگر اسے سمندر کے پانی میں ڈال دیاجائے تو اسے بھی بدبودار کر دے (۳)…جہنمی جہنم میں مردار کھا رہے تھے (۴)…ان کی فضا بدبودار تھی اور (۵)…انہیں قبروں میں عذاب دیا جا رہاتھا۔]،ان میں سے بعض احادیث ہی اس کے کبیرہ ہونے کے لئے کافی ہیں۔ پس جب یہ ساری جمع ہو جائیں تو پھر غیبت کرنا کیونکر کبیرہ گناہ نہ کہلائے گا؟ یہ تو صحیح احادیثِ مبارکہ میں ہے اور اس کے علاوہ غیر صحیح احادیث مبارکہ میں اس سے بھی اشد وعیدیں ہیں ، لہٰذا غیبت کے کبیرہ ہونے پر کثیر صحیح احادیث مبارکہ دلالت کرتی ہیں لیکن اس کے مفسدات میں اختلاف کے اعتبار سے اس کے کم یا زیادہ ہونے میں اختلاف ہے۔ جیسا کہ حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ)کا قول گزر چکا ہے، اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ’’غیبت ایک لاعلاج بیماری اور ایسا زہر ہے جو زبانوں پر ٹھنڈے صاف شفاف پانی سے بھی زیادہ میٹھا ہوتا ہے۔‘‘
{62}…صاحب ِ جَوَامِعُ الْکَلِم(۱)(یعنی حضرت سیِّدُنا محمد مصطفی صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے اپنے اس فرمانِ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1… جوامع الکلم سے مراد ایسے کلمات ہیں جو عبارت کے لحاظ سے مختصر اور معانی ومطالب کے لحاظ سے جامع ہوں۔(کوثر الخیرات، ص۵۵)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع