30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تنبیہ:
ان تینوں کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا مذکورہ صحیح احادیث ِ مبارکہ سے واضح اور ظاہر ہے، بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے معاہد (یعنی جس سے عہد کیا گیا ہو) یا دھوکے سے قتل کرنے کو واضح طور پر کبیرہ گناہ شمار کیا ہے لیکن اسے حکمران کے ساتھ بغیر کسی شرط کے خاص کیا ہے جیسا کہ ظاہر ہے۔
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے عہد توڑنے کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا بلکہ شیخ الاسلام حضرت سیِّدُنا امام علائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ( متوفی۷۶۱ھ) نے تصریح فرمائی کہ حدیث پاک سے ثابت ہے کہ حضور نبی ٔ پاک، صاحب ِ لَولاک، سیَّاحِ افلاکصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے کبیرہ گناہ قرار دیا۔ لیکن اس پر حضرت سیِّدُنا امام جلال بلقینیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی نے اعتراض کیا کہ اس گناہ کے متعلق مذکورہ احادیث ِ مبارکہ میں یہ دلیل نہیں کہ یہ کبیرہ گناہ ہے۔ہاں ! اس میں شدید وعید ضرور ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
ظاہر یہ ہے کہ بِمَا تَقَدَّمَ سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کی مراد مسند احمد اور بخاری شریف کی مذکورہ احادیث ِ مبارکہ ہیں : ’’(اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:) 3 شخص ایسے ہیں کہ میں قیامت کے دن اُن کا مقابل ہوں گا:جس نے میرے نام پر عہد کیا پھر عہد شکنی کی(یعنی اُسے توڑدیا)……الخ ۔‘‘ (۱)
پس جس نے کسی کافر کو امان دے کر دھوکا دیا تو اس نے اسے دی ہوئی امان توڑ دی۔شاید! امان کو صَفْقَہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک عقد ہے جو امن کا فا ئدہ دیتا ہے۔لہٰذا یہ ملکیت کا فائدہ دینے والی بیع کے عقد کی طرح ہے اور عقد ِ بیع کو بھی صَفْقَہ کہا جاتا ہے کیونکہ جب دو عربی آپس میں خرید وفروخت کرتے تو ان میں سے ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتا پس عقد کو مجازی طور پر یہ نام دے دیا گیا۔
۞۞۞۞۞۞۞
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری،کتاب البیوع، باب اثم من باع حرا، الحدیث:۲۲۲۷،ص۱۷۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع