30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{11}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت ِ سراپا عظمت میں مالِ غنیمت میں سے ایک چمڑے کابچھونالایاگیااورعرض کی گئی:’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لیے ہے، تاکہ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے ذریعے دُھوپ سے سایہ حاصل کریں ۔‘‘ تو آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشا د فرمایا: ’’کیا تم پسند کرتے ہو کہ تمہارا نبی قیامت کے دن جہنم کے سائے سے سایہ حاصل کرے۔‘‘ (۱)
{12}… حضرت سیِّدُنا سمرہ بن جندب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حمد وثناء کے بعد ارشاد فرمایا کہ سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ حقیقت بیان ہے: ’’جو خیانت کرنے والے کی پردہ پوشی کرتا ہے وہ اسی کی مثل ہے۔‘‘ (۲)
تنبیہ:
ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے خیانت کرنے کو واضح طور پر کبیرہ گناہ شما رکیا اور بعض ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے مشترکہ مال، بیت المال اور زکوٰۃ میں خیانت کرنا گناہِ کبیرہ ہونے میں مالِ غنیمت میں خیانت کرنے کی طرح ہے اور یہ واضح ہے۔ البتہ! جو مالِ زکوٰۃ میں خیانت کرنے والا ہے اس کے معاملہ میں کوئی فرق نہیں کہ وہ زکوٰۃ کے مستحقین میں سے ہے یا غیر مستحقین میں سے۔ اس لئے کہ مالِ زکوٰۃ میں اپنی مرضی سے حق کی وصولی ممنوع ہے کیونکہ اس میں نیت شرط ہے۔ بلکہ اگر مالک نے اس کی مقدار علیحدہ کر لی اور نیت بھی کر لی تب بھی بذاتِ خود اپنا حق لے لینا جائز نہیں کیونکہ اس کا صحیح ہونامالک کے دینے پر موقوف ہے اورجب تک وہ نہ دے دوسرے کا مالک بن جانا مشکل ہے۔ لہٰذا یہ مالک کی ملکیت میں باقی رہے گا یہاں تک کہ وہ خود دوسرے کو دے۔ اس سے واضح ہوگیا کہ مالِ زکوٰۃ میں اپنی مرضی سے حق لے لینا مطلقًا ممنوع ہے۔
{13}…شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کچھ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا جبکہ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ٹیک لگا کر تشریف فرما تھے، انہوں نے کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…مراسیلِ ابی داود، باب فی الغلول، ص۱۴۔ المعجم الاوسط، الحدیث:۷۱۳۱،ج۵،ص۲۲۱۔
2…سنن ابی داود، کتاب الجھاد، با ب النھی عن الستر علی من غل، الحدیث:۲۷۱۶،ص۱۴۲۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع