30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شے ( جیسے سونا چاندی وغیرہ) ہو اور وہ کہہ رہا ہو:’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میری فریاد رسی فرمائیے۔‘‘ تو میں کہوں گا: ’’میں اللہ عَزَّوَجَلَّکے مقابلے میں تیرے لئے کچھ نہیں کر سکتا، میں تجھ تک احکام پہنچاچکا۔‘‘ (۱)
{7}…حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب مالِ غنیمت حاصل فرماتے تو حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو حکم دیتے وہ لوگوں میں اعلان کرتے، لوگ اپنا اپنا مالِ غنیمت لے کرحاضر ہو جاتے آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خُمُسْ (یعنی پانچواں حصہ) نکال لیتے اور اسے تقسیم فرما دیتے۔ایک دن ایک شخص اِس(یعنی مالِ غنیمت جمع ہوچکنے، خمس نکالنے اور تقسیم کر دینے ) کے بعد بالوں کی لگام لایا اور عرض کی:’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ بھی اسی مالِ غنیمت سے ہے جو ہم نے حاصل کیا تھا۔‘‘ توارشاد فرمایا: ’’کیا تم نے نہیں سنا تھا کہ بلال نے 3 بار باآوازبلنداعلان کیا تھا؟‘‘ بولا: جی ہاں ! سنا تھا۔‘‘ارشاد فرمایا: ’’ تو تجھے اس کے لانے سے کس نے روکا؟‘‘ وہ عذر کرنے لگا آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’تم یوں ہی رہو کہ اسے قیامت کے دن لاؤ گے تو میں تم سے ہر گز قبول نہ کروں گا۔‘‘ (۲)
{8}… حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے، اللہ عَزَّوَجَلَّنے ہمیں فتح عطا فرمائی، ہم نے مالِ غنیمت میں سونا یا چاندی نہ پایا بلکہ سامان، کھانا اور کپڑے پائے، پھر ہم وادی ٔ قُرٰی کی طرف پلٹے اورحضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا (مِدْعَم نامی سیاہ فام) غلام حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ تھا جو بَنِیْ ضُبَیْب کے ایک صاحب حضرت سیِّدُنا رِفاعہ بن زید جُذامی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تحفۃً پیش کیا تھا۔ جب ہم وادی میں اُترے اورآپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا غلام آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سامان اُتارنے لگا تو اسے ایک تیر لگا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی ۔صحابۂ کرام عَلَــیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اُسے شہادت مبارک ہو۔‘‘ تو آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ہر گز نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم ،کتاب الامارۃ، باب غلظ تحریم الغلول، الحدیث:۴۷۳۴،ص۱۰۰۶۔
مسند ابی یعلی الموصلی، مسند ابی ہریرۃ، الحدیث:۶۰۷۲، ج۵، ص۳۴۳۔
2…سنن ابی داود، کتاب الجہاد، باب فی الغلول اذاکان یسیرا…الخ، الحدیث:۲۷۱۲،ص۱۴۲۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع