30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خیانت نہ کرے تو اس کے سامنے دُشمن قدم نہ جما سکے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا حبیب بن مسلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا: ’’کیا تمہارے سامنے دشمن بکری کا دودھ دوہنے کی دیر ٹھہرا رہتا ہے؟‘‘ تو انہوں نے جواباً کہا: ’’جی ہاں ! بلکہ تین دودھ والی بکریوں کے دودھ دوہنے کی دیر تک۔‘‘ تو حضرت سیِّدُنا ابوذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا: ’’ربِّ کعبہ کی قسم! تم نے خیانت کی ہے۔‘‘ (۱)
بروزِ قیامت خائن کی حالت:
{6}… حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک دن ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور خیانت کا ذکر کیا اوراسے اور اس کے معاملہ کو بہت بڑا گناہ بتایا یہاں تک کہ ارشاد فرمایا: میں تم میں سے کسی کو ایسا نہ پاؤں کہ وہ بروزِ قیامت اس حال میں آئے کہ اس کی گردن پر بڑبڑانے والا اونٹ ہو اور وہ کہہ رہا ہو:’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میری فریاد رسی فرمائیے۔‘‘ تو میں کہوں گا:’’میں اللہ عَزَّوَجَلَّکے مقابلے میں تیرے لئے کچھ نہیں کر سکتا، میں تجھ تک احکام پہنچاچکا۔‘‘ میں تم میں سے کسی کو ایسا نہ پاؤں کہ وہ روزِ محشر اس حال میں آئے کہ اپنی گردن پر ایک ہنہنانے والا گھوڑا لئے ہو اور کہہ رہا ہو: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میری امداد فرمائیے۔‘‘ تو میں کہوں گا: ’’میں اللہ عَزَّوَجَلَّکے مقابلے میں تیرے لئے کچھ نہیں کر سکتا،میں تجھ تک احکام پہنچاچکا۔‘‘ میں تم میں سے کسی کو ایسا نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے کہ اس کی گردن پر ایک منمنانے والی بکری ہو اور وہ کہہ رہا ہو:’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میری فریاد رسی فرمائیے۔‘‘ تو میں کہوں گا: ’’میں اللہ عَزَّوَجَلَّکے مقابلے میں تیرے لئے کچھ نہیں کر سکتا، میں تجھ تک احکام پہنچاچکا ۔‘‘ میں تم میں سے کسی کو ایسا نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے کہ اس کی گردن پرکاغذ ( جس پر لوگوں کے حقوق لکھے ہوتے ہیں ) پھڑپھڑا رہا ہو اور وہ کہہ رہا ہو: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میری امداد فرمائیے۔‘‘ تو میں کہوں گا: ’’میں اللہ عَزَّوَجَلَّکے مقابلے میں تیرے لئے کچھ نہیں کر سکتا،میں تجھ تک احکام پہنچاچکا۔‘‘میں تم میں سے کسی کو ایسا نہ پاؤں کہ وہ بروزِ قیامت اس حال میں آئے کہ اس کی گردن پر خاموش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الاوسط، الحدیث:۸۱۰۸،ج۶،ص۸۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع