30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’تب تو میری امت کے شہدا بہت کم ہوں گے۔‘‘ صحابۂ کرام عَلَـــیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ان کے علاوہ اور کون شہید ہے۔‘‘) تو آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو اللہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں مر جائے وہ بھی شہید ہے، جو طاعون میں مر جائے وہ بھی شہید ہے اور جو پیٹ کی بیماری میں مر جائے وہ بھی شہید ہے۔‘‘ (۱)
{10}… سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’شہید کی 5 قسمیں ہیں : (۱)طاعون میں مرنے والا (۲) پیٹ کی بیماری میں مرنے والا (۳)ڈوب کر مرنے والا (۴)دَب کرمرنے والا اور (۵) اللہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں شہید ہونے والا۔‘‘ (۲)
{11}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’(راہ خدامیں )قتل ہونا بھی شہادت ہے، طاعون کی بیماری سے فوت ہوناشہادت ہے،پیٹ کی بیماری سے فوت ہونا شہادت ہے، ڈوب کر ہلاک ہوجانے سے شہادت ہے اوروہ عورت بھی شہید ہے جوبچے کی پیدائش کے وقت بچہ سمیت مرجائے ۔‘‘ (۳)
{12}…سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک انصاری کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے، اس کے گھر والے رونے لگے تو اس کے چچا نے کہا: ’’اپنی آوازوں سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو تکلیف نہ دو۔‘‘ تو آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’جب تک یہ(مریض) زندہ ہے انہیں رونے دو اور جب موت واقع ہو جائے تو انہیں سکون سے رہنا چاہئے۔‘‘ پھر کسی نے مریض سے کہا: ’’ہم نہیں چاہتے کہ تجھے موت بستر پر آئے یہاں تک کہ تو رسولِ پاک صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی معیت میں اللہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں شہیدہو جائے۔‘‘ تو آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’کیا اللہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں مرنے والا ہی شہید ہے؟ پھرتو میری امت کے شہدا بہت کم ہوں گے، (بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ) طعن(یعنی نیزوں کے ساتھ جہادکرتے مرجانا ) شہادت ہے، پیٹ کی بیماری سے مرجاناشہادت ہے، طاعون میں فوت ہوناشہادت ہے، نفاس والی عورت بچے کے باعث مر جائے تو وہ شہید ہے، جل کر مرجانا شہادت ہے، ڈوب کر مرجانا شہادت ہے اور پسلی کی بیماری میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم،کتاب الامارۃ، باب بیان الشھدائ، الحدیث:۴۹۴۱،ص۱۰۲۰۔
2…صحیح البخاری، کتاب الجہاد، باب الشھادۃ سبع سوی القتل، الحدیث:۲۸۲۹،ص۲۲۸۔
3…المسند للامام احمد بن حنبل ،حدیث عبادۃ بن الصامت، الحدیث:۲۲۷۴۷،ج۸،ص۳۹۵، مفہوماً۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع