30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اورحضرت سیِّدُناموسیٰ عَلَـــیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مالک ومعبود! تو نے اپنے بندوں کی نافرمانی دیکھ لی ، پس انہیں ان کی جانوں میں کوئی نشانی دِکھا تاکہ انہیں یقین ہوجائے کہ یہ تجھ سے بھاگ نہیں سکتے۔‘‘
چنانچہ، جب وہ نکلے تو اللہ عَزَّوَجَلَّنے ان سے ارشاد فرمایا: ’’مر جاؤ۔‘‘ یعنی انہیں ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہونے کاحکم دیا پس ایک شخص کی موت کی طرح وہ تمام لوگ اور ان کے چوپائے مر گئے۔ 8 دن اسی طرح پڑے رہے یہاں تک کہ وہ پھٹ گئے اور ان کے جسم بدبو دار ہو گئے۔ بنی اسرائیل کو ان کی موت کی خبر پہنچی توانہیں دفن کرنے کے لئے نکلے لیکن ان کی تعداد بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے عاجز آ گئے اور درندوں سے بچاؤ کے لئے ان پر باڑ (یعنی چار دیواری) بنا دی۔ پھر 8 دن کے بعد اللہ عَزَّوَجَلَّنے انہیں زندہ کر دیا اور اس بدبو میں سے کچھ ان میں باقی رہی اور آج تک ان کی اولاد میں بھی ہے۔ (۱)
بعض نے اس کے علاوہ اسباب بیان کئے ہیں۔
فَقَالَ لَہُمُ اللہُ مُوۡتُوۡا" کی تفسیر:
اللہ عَزَّوَجَلَّکا فرمان ’’ فَقَالَ لَہُمُ اللہُ مُوۡتُوۡا " ‘‘ درج ذیل فرمانِ عالیشان کے باب سے ہے :
اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیۡءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰہُ اَنۡ نَّقُوۡلَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۴۰﴾٪ (پ۱۴، النحل :۴۰)
ترجمۂ کنز الایمان:جو چیز ہم چاہیں اس سے ہمارا فرمانا یہی ہوتا ہے کہ ہم کہیں ہوجا وہ فوراً ہوجاتی ہے۔
اس آیت ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مراد کا انتہائی جلد واقع ہو جانا اور اس کے ارادے سے پیچھے نہ رہنا کیونکہ یہاں کوئی قول نہیں۔
ایک قول یہ ہے کہ آیت ِ مبارکہ میں رسول یا فرشتے کو ایسا کہنے کا حکم ہے ۔ مگر پہلا معنی ظاہر ہے۔
ثُمَّ اَحْیٰہُمْ کی تفسیر:
یہ موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی واضح دلیل ہے اور بلاشبہ یہ ممکن ہے۔ سچے رب عَزَّوَجَلَّ نے اس کی خبر دی ہے لہٰذا اس پر یقین کرنا واجب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…التفسیر الکبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ۲۴۳،ج۲،ص۴۹۶۔ تفسیر البغوی، البقرۃ، تحت الآیۃ۲۴۳،ج۱،ص۱۶۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع