30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی طرف وحی فرمائی: ’’انہیں پکارو کہ اے ہڈیو! اللہ عَزَّوَجَلَّتمہیں حکم دیتا ہے کہ گوشت اور خون کا لباس پہن لو۔‘‘ پھر آپ عَلَـــیْہِ السَّلَام نے انہیں پکارا: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں کھڑا ہونے کا حکم دیتا ہے۔‘‘ چنانچہ، وہ یہ کہتے ہوئے زندہ کھڑے ہو گئے: ’’اے ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ! تو پاک ہے، یکتا ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘ اس کے بعد وہ لوگ اپنی قوم کی طرف لوٹے تو موت کی علامتیں ان کے چہروں اور جسموں پر ظاہر تھیں یہاں تک کہ وہ بعد میں اپنے مقررہ وقت میں مر گئے۔ (۱)
سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ کاوبائی علاقے سے واپس پلٹنا:
{1}… مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مُلکِ شام جانے کے لئے نکلے اور سرغ کے مقام پر پہنچے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو معلوم ہوا کہ شام میں وبا پھوٹ پڑی ہے۔ پس آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جلیل القدر صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے مشورہ طلب کیا لیکن ان میں سے کسی کے پا س اس کے متعلق کوئی علم نہ پایا یہاں تک کہ حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لے آئے اور روایت بیان کی کہ میں نے حضور نبی ٔکریمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے سنا: ’’جب تم کسی زمین میں بیماری کے متعلق سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب بیماری کسی جگہ پہنچ جائے اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے نہ بھاگو۔‘‘ چنانچہ،امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مقامِ سرغ سے واپس لوٹ آئے۔ (۲)
{2}… حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور مفسِّرِینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکے ایک گروہ کا قول ہے کہ ان لوگوں کی موت کا سبب یہ تھا کہ بنی اسرائیل کے ایک بادشاہ نے اپنے لشکرکو جہاد کا حکم دیا تو انہوں نے بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ عذر پیش کیا کہ جس زمین کی طرف ہم جا رہے ہیں وہاں بیماری ہے، ہم وہاں نہیں جائیں گے جب تک کہ بیماری ختم نہ ہو جائے۔ پس اللہ عَزَّوَجَلَّنے اُن پر موت بھیج دی تو وہ اس سے بھاگتے ہوئے اپنے شہروں سے نکل کھڑے ہوئے۔ جب بادشاہ نے یہ دیکھا تو بارگاہِ خداوندی میں عرض کی: ’’اے حضرت سیِّدُنا یعقوب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…اللباب فی علوم الکتاب ، البقرۃ، تحت الآیۃ۲۴۳،ج۴،ص۲۴۸۔
تفسیر البغوی، البقرۃ، تحت الآیۃ۲۴۳،ج۱،ص۱۶۶۔۱۶۷۔
2…صحیح البخاری،کتاب الحیل، باب ما یکرہ من الاحتیال فی الفرارمن الطاعون، الحدیث:۶۹۷۳، ص۵۸۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع