30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کی تصریح فرمائی ہے۔ چنانچہ، حضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی۲۰۴ھ) نے فرمایا: ’’جب مسلمان لڑیں اور اپنے سے دُگنے دشمن کا مقابلہ کریں تو ان کا پیٹھ پھیرنا حرام ہے اور اگر مقصود لڑائی کے جوہر دکھانا یا اپنے گروہ میں جا ملنا ہو تو حرام نہیں اور اگر دگنے سے بھی زیادہ ہوں تو اب ان کا پیٹھ پھیر کر بھاگنا حرام نہیں اگر چہ بھاگنا لڑائی کاجوہردکھانے یا اپنے گروہ سے جاملنے کے لیے نہ ہو اور میرے نزدیک وہ اللہ عَزَّوَجَلَّکی ناراضی کے حق دار نہ ہوں گے۔‘‘ (۱)اور یہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا مشہور مذہب ہے۔
۞۞۞۞۞۞۞
کبیرہ نمبر399: طاعون سے بھاگنا
اللہ عَزَّوَجَلَّکا فرمانِ عالیشان ہے:
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِیٰرِہِمْ وَہُمْ اُلُوۡفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ۪ فَقَالَ لَہُمُ اللہُ مُوۡتُوۡا۟ ثُمَّ اَحْیٰہُمْؕ (پ۲،البقرۃ: ۲۴۳)
ترجمۂ کنز الایمان: اے محبوب! کیا تم نے نہ دیکھا تھا انہیں جو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے، تو اللہ نے ان سے فرمایا مرجاؤ پھر انہیں زندہ فرمادیا۔
آیت ِ مبارکہ کی تفسیر:
جان لیجئے! اللہ عَزَّوَجَلَّکی عادتِ مبارکہ ہے کہ احکام بیان کرنے کے بعد واقعات بیان فرماتا ہے تاکہ سننے والے کو ان کی اہمیت معلوم ہو۔ یہاں پر ہمزہ حرفِ نفی پر داخل ہونے کی وجہ سے استفہامِ تقریری کے لئے ہے اس اعتبار سے کہ اس کے نزول سے پہلے مخاطب پورے قصہ کو جان چکا ہے اور ہمزہ یہاں تنبیہ کے لئے اور ان کی حالت پر تعجب کے لئے ہے اورخطاب حضورصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ہے یا ہر سننے والا اس کا مخاطَب ہے۔
اکثر مفسِّرِینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ اس سے مراد واسط کے قریب(دَاوَرْدَان نامی) بستی ہے جو طاعون میں مبتلا ہو گئی تو وہاں رہنے والے عام لوگ نکل کھڑے ہوئے اور ایک گروہ باقی رہ گیا اور ان میں سے کچھ مریض ہی باقی بچے۔ جب طاعون ختم ہو گیا اور بھاگنے والے صحیح وسالم واپس آ گئے تو بیماروں نے کہا: ’’یہ لوگ ہم سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1… المجموع شرح المہذب،کتاب السیر، فصل واذا التقی الزحفان…الخ، ج۱۹،ص۲۹۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع