30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تنبیہ:اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اور یہ پہلی حدیث ِ پاک سے واضح ہے لیکن اس کا محل وہی ہے جو میں نے ذکر کیا ہے۔ اسی وجہ سے شافعی ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ آنے والے پر اپنے لئے کھڑا ہونے کو پسند کرنا حرام ہے اور انہوں نے مذکورہ پہلی حدیث ِ پاک سے استدلال کیا۔
کسی کی خاطر کھڑے ہونے کا مفہوم:
کسی کی خاطر کھڑے ہونے سے مراد یہ ہے کہ انسان بیٹھا رہے اور لوگ مستقل کھڑے رہیں جیسے ظالم بادشاہوں کی عادت ہے۔ جیسا کہ حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حسین بیہقیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے۔
بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کرتے ہوئے فرمایا: آدمی اپنے سامنے لوگوں کے کھڑ ا رہنے کو پسند کرے اور خود بیٹھا ہوا ہو۔ اسی طرح ہم عصروں پر برتری اور بڑائی ظاہر کرنے کے لئے اپنے لئے دوسروں کے کھڑا ہونے کو پسند کرنا بھی کبیرہ گناہ ہے۔ حضرت سیِّدُنا ابن عمادعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد نے اس بات سے آگاہ فرمایا کہ جس نے مذکورہ سبب سے نہیں بلکہ اپنی عزَّت کے لئے کھڑا ہونا پسند کیا تو حرام نہیں کیونکہ اس زمانے میں محبت حاصل کرنے کے لئے یہ شعار بن چکا ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّان پر اور ہم پر اپنا خاص فضل وکرم اور رحمت فرمائے۔ (آمین)
کس کس کے لئے تعظیماً کھڑا ہونا جائز ہے :
دوسری حدیث ِ پاک شافعی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے اس فرمان کے خلاف نہیں کہ درج ذیل لوگوں کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونا مستحب ہے: صاحب ِعلم، نیک، بزرگ، والدین، رشتہ دار یا امیر یا حاکم بشرطیکہ مذکورہ لوگ عدالت و پاک دامنی سے متَّصف ہوں یا جس سے سچی دوستی ہو وغیرہ۔ کیونکہ ہمارے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اسے اپنے اس قول کے ساتھ مقیَّد کیا کہ یہ کھڑا ہونا نیکی اور عزَّت و احترام کے طور پر ہو، بڑائی ظاہر کرنے اور دِکھاوے کے لئے نہ ہو۔
انہوں نے اسی قیام سے منع فرمایا جس سے حضور صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس فرمانِ عالیشان میں منع فرمایا کہ ’’جیسے عجمی کھڑے ہوتے ہیں کہ ان کے بعض بعض کی تعظیم کرتے ہیں۔‘‘ (۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن ابی داود، کتاب الادب، باب الرجل یقوم للرجل یعظمہ بذلک، الحدیث:۵۲۳۰، ص۱۶۰۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع