30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہتے ہوئے نہیں پایا۔ حضرت سیِّدُنا امام رافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ)پر تو حد دَرَجہ تعجب ہے کہ وہ بھی یہاں خاموش ہیں حالانکہ اس سے قبل خود ہی نقل کر چکے ہیں کہ’’ اہلِ علم کی غیبت کرنا کبائر میں سے ہے۔‘‘ اور اسی طرح حضرت سیِّدُنا امام رافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ)کایہ قول کہ ’’غیبت کے وقت خاموش رہنا صغیرہ گناہ ہے۔‘‘ بھی لائقِ تعجب ہے کیونکہ اس سے قبل وہ نقل کر چکے ہیں کہ’’ برائی ہوتے دیکھ کر خاموش رہنا کبیرہ گناہ ہے۔‘‘
حضرت سیِّدُنا علامہ جلال بُلقینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی بھی اس طرف مائل ہوئے کہ’’غیبت صغیرہ گناہ ہے۔‘‘ انہوں نے حضرت سیِّدُنا امام شِہاب الدین اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) کا قول اور ان کا جواب ذکر کرنے کے بعد جس عبارت سے اِستدلال کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ’’اہلِ علم اور حاملینِ قرآن کی غیبت کے متعلق بعض علما فرماتے ہیں کہ یہ اس بات پر مبنی ہے کہ’’غیبت صغیرہ گناہ ہے۔‘‘ یعنی جب ہم نے غیبت کو کبیرہ گناہ قرار دیا تو اس میں کوئی خصوصیت نہیں جبکہ صَاحِبُ الْعُدَّۃ اسے صغیرہ گناہوں میں شمار کرتے ہیں۔ حضرت سیِّدُنا امام اَذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) فرماتے ہیں کہ’’غیبت کے مطلق صغیرہ ہونے کا قول ضعیف یا باطل ہے۔‘‘ اور مفسرقرآن حضرت سیِّدُنا امام ابوعبداللہمحمد بن احمد قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی(متوفی۶۷۱ھ) وغیرہ نے اس کے کبیرہ گناہ ہونے پر اجماع نقل کیا ہے اور ہمارے اصحاب (یعنی شوافع) کے ایک گروہ کا کلام بھی اسی کے موافق ہے۔ نیز قرآن و سنت میں بھی اس پر سخت حکم موجود ہے اور جو غیبت کی مذمت پر مروی احادیث ِ مبارکہ میں غور و فکر کرے وہ ازخود اس کا کبیرہ ہونا جان لے گا۔ حضرت سیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی ۵۰۵ھ) اورصَاحِبُ الْعُدَّۃکے علاوہ میں نے کسی کو اسے صغیرہ کہتے ہوئے نہیں دیکھا اورعجیب بات یہ ہے کہ انہوں نے برائی سے منع نہ کرنے کو مطلقًا کبیرہ گناہ قرار دیا ہے اوریہ اطلاق اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ غیبت سے منع نہ کرنا بھی کبیرہ گناہ ہونا چاہئے کیونکہ یہ ایک بہت بڑی برائی ہے۔
حضرت سیِّدُنا امام رافعی عَلَیْہِ
رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ) کے مخالف قول سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہلِ علم اور حاملینِ قرآن رَحِمَہُمُ اللہُ تعالٰی کا وَقِیْعَۃ(یعنی نقص نکالنا) غیبت نہیں بلکہ
یہ مسلمان کو گالی دینے اوراس کی بے عزتی کرنے میں داخل ہے اور اس کی دلیل گزر چکی
ہے اور حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہ سے مروی حدیث ِ پاک
سے بھی اس پر اِستدلال کیا جاتا ہے کہ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع