30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کبیرہ نمبر396: سلام کا جواب نہ دینا
بعض ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اسی طرح ذکر کیا ہے مگر اس میں غور وفکر کی ضرورت ہے اور بعض ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے تصریح کی ہے کہ یہ صغیرہ گناہ ہے اور اسی کی طرف توجہ جاتی ہے۔ ہاں ! اگر سلام کا جواب چھوڑنے کے ساتھ ایسے قرائن ملے ہوئے ہوں کہ وہ اس سے کسی مسلمان کو سخت تکلیف اور اذیَّت پہنچائے تو اس صورت میں سلام کا جواب ترک کرنا کبیرہ گناہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں بہت بڑی ناقابلِ برداشت اذیَّت ہے۔
۞۞۞۞۞۞۞
کبیرہ نمبر397: انسان کا اپنی تعظیم کے لئے کھڑا ہونا پسند کرنا
{1}…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو یہ پسند کرتا ہے کہ لوگ اس کے لئے کھڑے رہیں وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔‘‘ (۱)
{2}… حضرت سیِّدُنا ابو امامہ باہلی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، منزہ عن الْعُیوبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعصاکے سہارے ہمارے پاس تشریف لائے تو تعظیماًکھڑے ہو گئے، آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ایسے کھڑے نہ ہوا کرو جیسے عجمی کھڑے ہوتے ہیں کہ ان کے بعض بعض کی تعظیم کرتے ہیں (۲)۔‘‘ (۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…سنن ابی داود،کتاب الادب،باب الرجل یقوم للرجل یعظمہ بذلک، الحدیث:۵۲۲۹، ص۱۶۰۵۔
جامع الترمذی، ابواب الادب، باب ما جاء فی کراہیۃ قیام الرجل للرجل، الحدیث:۲۷۵۵،ص۱۹۲۹۔
2…مفسر شہیر حکیم الامت حضرت علامہ مولانامفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحنَّانمراٰۃ المناجیح ،جلد6، صفحہ373پر اس حدیث ِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’یعنی تمہارا یہ قیام تو ٹھیک ہے مگر عجمیوں (یعنی غیرعربی لوگوں ) کا سا قیام نہ کرنا کہ مخدوم بیٹھا ہو۔ خُدَّام سامنے دست بستہ سروقد کھڑے ہوئے ہوں اور مخدوم اس تعظیم کی خواہش بھی کرتا ہو کہ ایسا قیام ممنوع ہے۔ یہ قیود خیال میں رہیں۔ (صاحبِ ) مرقات نے فرمایا کہ یہاں قیام سے مراد وقوف ہے یعنی کسی کے لیے تعظیماً کھڑا رہنا۔‘‘
3…سنن ابی داود، کتاب الادب، باب الرجل یقوم للرجل یعظمہ بذلک، الحدیث:۵۲۳۰،ص۱۶۰۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع