30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
علما کے ایک طبقہ کے نزدیک برائی کو دل میں برا نہ جاننا کفر ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَوَّلبھی انہی میں شامل ہیں۔ کیونکہ حدیث ِ پاک میں ہے کہ’’یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔‘‘ (۱)
جو شخص ناواقفیت وجہالت کی بنا پر کسی برائی میں مبتلا ہو کہ اگر آگاہ ہو جائے تو اس سے رُک جائے تو اسے نرمی سے سمجھانا واجب ہے، یہاں تک کہ اگر اُسے معلوم ہو کہ کسی دوسرے کو مخاطب کرکے سمجھانا اِسے فائدہ دے گا تو دوسرے کو مخاطب کرے۔ یاجو شخص برائی کو جاننے کے باوجود اس میں مبتلا ہو مثلاً بھتہ لینے اور غیبت پر ڈٹا رہنے والا، تو اسے نصیحت کرے اور اس گناہ کی وعید یاد دِلا کر خوف دلائے۔ پھر درجہ بدرجہ انتہائی نرمی وخندہ پیشانی سے سمجھائے کیونکہ ہر چیز اپنی قضا وقدر کے ساتھ ہوتی ہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّکے لطف و کرم پراپنی نظر رکھے کہ اس نے اس برائی سے بچایا، اگر وہ چاہتا تو اس کے برعکس کر دیتا بلکہ اب بھی وہ اس برائی میں مبتلا ہونے سے محفوظ نہیں۔
اگر زبان سے روکنے سے عاجز آ جائے یا اس پر قادر نہ ہو اور تُرش رُوئی، جھڑکنے، سختی کرنے اور غضب ناک ہونے کی قدرت رکھتا ہو تو ایسا کرنا ضروری ہے اور صرف دل میں برا جاننا کافی نہیں۔ اگر اس نے وعظ و نصیحت نہ کی اور برائی میں مبتلا شخص کا اس پر ڈٹا رہنا معلوم ہوا تو اس سے سخت کلامی سے پیش آئے اور اُسے ڈانٹ ڈپٹ کرے مگر گالیاں نہ بکے جیسے یوں کہے: ’’اے فاسق! اے جاہل! اے احمق! اے اللہ عَزَّوَجَلَّسے نہ ڈرنے والے!‘‘
برائی سے منع کرنے والے کو چاہئے کہ غضب ناک ہونے سے بچے ورنہ اپنی نصرت کے لئے برائی سے منع کرے گا یا کسی اور فعلِ حرام میں مبتلا ہوجائے گا تو اس کا ثواب عذاب میں بدل جائے گا۔ یہ تمام احکام اس برائی کے لئے ہیں جو ہاتھ سے نہ روکی جا سکے اور جو ہاتھ سے دُور کی جا سکے اسے ہاتھ سے ختم کرنا ضروری ہے مثلاً غیر محترم شراب بہانا (یعنی ایسی شراب جو شراب ہی کے لئے رکھی گئی ہو نہ کہ سرکہ وغیرہ کے لئے)، آلاتِ لہو توڑنا، مرد سونا یا ریشم پہنے ہو تو اُتروا دینا، بکری وغیرہ کو توڑ پھوڑ کرنے سے روکنا اور جنبی، گندگی کھانے والے اور نجاست والے شخص سے نجاست ٹپک رہی ہو تو اسے مسجد سے باہر نکالنا ۔ بلکہ اگر ہاتھ سے نہ روک سکے تو اسے اپنے پاؤں سے دھکیل دے یاکسی مددگار کے ذریعے اُسے دور کرے اور شراب بہانے اور آلاتِ لہو کو بری طرح توڑنے سے بچے، البتہ! اگر وہ توڑے بغیر نہ بہتی ہو یا خوف ہو کہ فاسق لوگ اسے لے لیں گے اور اسے روک لیں گے تو ہر وہ کام کرے جس کا کرناضروری ہوخواہ اسے جلانا یا بہانا پڑے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم ،کتاب الایمان،باب بیان کون النھی عن المنکر…الخ،الحدیث:۱۷۷،ص۶۸۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع