30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فائدہ:نیکی کی دعوت دینا فرضِ کفایہ ہے:
نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ہر مکلَّف، آزاد، غلام اور مردو عورت پر واجب ہے لیکن واجب علی الکفایہ ہے۔ اس کی دلیل اللہ عَزَّوَجَلَّکا یہ فرمانِ عالیشان ہے: ’’ وَلْتَکُنۡ مِّنۡکُمْ اُمَّۃ (پ۴،اٰل عمران :۱۰۴) ترجمۂ کنز الایمان: اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے۔‘‘کیونکہ اگر یہ فرضِ عین ہوتا تو اللہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرماتا: ’’وَلْتَکُوْنُوْا۔‘‘ ہاں ! کبھی یہ فرضِ عین بھی ہو جاتا ہے جیسے اگر وہ ایسے مقام پر ہو جہاں کوئی دوسرا اس کا علم نہیں رکھتا یادوسرا اس پر قدرت نہیں رکھتا۔
فرضِ کفایہ وہ ہوتا ہے کہ جسے اگر ایک شخص سرانجام دے دے تو اسے ثواب مل جائے گا اور باقیوں سے ذمہ داری ساقط ہو جائے گی۔ اسی وجہ سے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے ایک طبقہ کے نزدیک اس کا نفع زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ فرضِ عین سے افضل ہے۔
ایک شخص کے فرضِ کفایہ فعل ادا کرنے سے دوسرے سے اس کے ساقط ہونے میں شرط ہے کہ اسے دوسرے کے ادا کرنے کا یقینی علم ہو ورنہ اس سے ساقط نہ ہو گا جیسے اپنے گمان سے(کہ دوسرے ادا کرتے ہوں گے) جان بوجھ کر کسی واجب کو ترک کر دینا۔ کیونکہ گناہ میں دار ومدار فاعل کی ذات پر ہوتا ہے نہ کہ نفسِ فعل پر۔ کیا آپ جانتے نہیں کہ جس نے کسی عورت کو اجنبی گمان کرتے ہوئے اس سے وطی کی حالانکہ وہ اس کی بیوی تھی تو اسے زنا کا گناہ ملے گا اور اس کے برعکس ہو(یعنی اجنبی عورت کو اپنی بیوی سمجھ کراس سے وطی کی) تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔
ہاتھ اور زبان سے برائی کو روکنے کے احکام:
اگر سب لوگ برابر طور پر ہاتھ اور زبان سے روک سکتے ہوں تو اس کی ذمہ داری سب پر عائد ہوگی اور اگر ایک شخص ہاتھ سے اور دوسرے زبان سے روکنے پر قادر ہوں تو پہلے کی ذمہ داری ہو گی، البتہ! اگر زبان سے روکنے والے کے ذریعے برائی سے رکنا زیادہ آسان ہو یا زبان سے روکنے سے وہ ظاہری وباطنی طور پر رک جائے جبکہ ہاتھ سے روکنے سے صرف ظاہراً رُکے تو اس صورت میں زبان سے روکنے والے کی ذمہ داری ہوگی ۔
دل میں بُرا جاننے کاحکم:
دل میں برا جاننا مکلَّف سے بالکل ساقط نہ ہو گا کیونکہ یہ نافرمانی کو ناپسند کرنا ہے جو ہر مکلَّف پر واجب ہے بلکہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع