30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نیکی کا حکم دینا۔ جب ان میں سے ایک رہ بھی گیا تو دوسرا ساقط نہ ہو گا۔
مشکل مسائل میں صرف علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام اَ مْرٌ بِالْمَعْرُوْف اور نَــہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر کا فریضہ سر انجام دیں ، عام لوگ ناواقف ہونے کی وجہ سے یہ کام نہ کریں اور ظاہری اعمال جیسے نماز، روزہ اور شراب پینے میں نیکی کا حکم دینے میں عوام اور علما سب برابر ہیں۔
عالم بھی صرف انہیں باتوں سے منع کرے جن کے برا ہونے پر اتفاق ہو یا جنہیں کرنے والا حرام سمجھتا ہو اور دیگر باتوں میں روک ٹوک نہ کرے۔ البتہ! اس کے لئے مستحب ہے کہ اختلاف سے بچنے کے لئے نصیحت کے طور پر منع کرے کہ کہیں دوسرے اختلاف اور سنت ِ ثابتہ چھوڑنے کا مرتکب نہ ہو جائے کیونکہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اتفاق ہے کہ اس وقت اختلاف سے نکلنا مستحسن ہے۔
امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے بارہ مدنی پھول:
سابقہ احادیث ِ مبارکہ سے درج ذیل نتائج حاصل ہوتے ہیں :
(۱)…برائی سے منع کرنے والا سب سے پہلے برائی کو ہاتھ سے روکے۔
(۲)… اگر اس سے عاجز ہو تو زبان سے روکے۔
(۳)…اس پر لازم ہے کہ ممکنہ حد تک برائی کو بدلنے کی کوشش کرے اور جو اسے ختم کر سکتا ہو اس کے لئے صرف نصیحت کرنا کافی نہیں اور جو زبان سے روکنے کی طاقت رکھتا ہو اس کے لئے صرف دل میں برا جاننا کافی نہیں۔
(۴)… جس کے شرکا خوف ہو اُس سے اور جاہل سے برائی دور کرنے میں نرمی کرے کیونکہ یہ چیزانہیں نیکی کی دعوت دینے والے کی بات قبول کرنے پر آمادہ کرے گی نیزبرائی دورکرنے کا بہترین ذریعہ نرمی ہے۔
(۵)…اگر جنگ اور اسلحہ کے فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو برے شخص کے خلاف دوسروں سے مدد طلب کرے جبکہ استقلال ممکن نہ ہو۔
(۶)… اگر وہ ہاتھ یا زبان سے روکنے سے عاجز آجائے تومعاملہ حکمران کے پاس لے جائے۔
(۷)… اگر اس سے بھی عاجز ہو تو دل میں برا جانے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع