30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۱۵)…راستوں کی مساجد کے ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکو مقتدیوں پر نماز لمبی کرنے سے منع کرے۔
(۱۶)…اور عورتوں کے معاملہ میں خیانت کرنے سے منع کرے۔
صغیرہ گناہ سے منع کرنابھی واجب ہے:
حضرات ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ کبیرہ گناہ کی طرح صغیرہ گناہ سے منع کرنا بھی واجب ہے بلکہ اگر فاعل کے خاص ہونے کی وجہ سے وہ فعل نافرمانی نہ بھی ہو تب بھی اس سے منع کرنا واجب ہے جیسا کہ اگر وہ غیرمکلَّف کو زنا کرتے یا شراب پیتے دیکھے تو اسے اس سے روکنا ضروری ہے۔ نافرمانی کو ختم کرنے کے بعد نصیحت کافی ہے بلکہ اسے چھپانا سنت ہے جیسا کہ’’باب الحدود‘‘ میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔
’’شَرْحِ مُسْلِم‘‘میں ہے: ’’جس کا فساد معروف ہو اگر کسی فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو اس کا ظاہر کرنا اور حاکم تک پہنچانا مستحب ہے اور جسے کسی برائی کے آئندہ ہونے کی خبر ملے جیسے وہ کسی شخص کے متعلق سنے کہ وہ کل شراب پینے یا زنا کرنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہے تو اسے فقط نصیحت کرے۔ لیکن اگر وہ سنے بغیر صرف قرائن سے ایسا سمجھے تو اسے نصیحت کرنا حرام ہے کیونکہ یہ چیزمسلمان کے متعلق بدگمانی کو ضمن میں لئے ہوئے ہے۔‘‘
(مصنِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہفرماتے ہیں :) مطلق طور پر نصیحت کو حرام قرار دینے میں غور وفکر کی ضرورت ہے بلکہ حرام ہونے کی صورت یہ ہے کہ وہ وعظ ونصیحت میں اس کے فسق وغیرہ کو مشہور کرے اور جس نے کسی اجنبیہ کے ساتھ تنہائی اختیار کی یا اجنبیہ کو دیکھنے کے لئے کھڑا ہوا اسے زبردستی روکا جائے، یہ نہ ہوسکے تو زبان سے منع کیا جائے کیونکہ اس سے نافرمانی ثابت ہو گئی۔
نیکی کی دعوت کس پر لازم ہے؟
اسی طرح ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ نیکی کاحکم دینا اور برائی سے منع کرنا اس کے ساتھ خاص نہیں جس کی بات سنی جائے بلکہ ہر مکلَّف پر لازم ہے کہ امر و نہی کا فریضہ سر انجام دیتا رہے اگرچہ اسے لوگوں کی عادت معلوم ہو کہ انہیں نصیحت کوئی فائدہ نہ دے گی، خواہ حکم دینے والا یا منع کرنے والا خود عمل نہ بھی کرتا ہو اور نہ ہی حاکمِ اسلام کی طرف سے اس کی ذمہ داری ہو۔ کیونکہ اس پر دوکام لازم ہیں : (۱)…خود عمل کرنااور(۲)… دوسروں کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع