30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گناہوں میں شمار کرے مگر غیبت کو کبیرہ گناہ نہ جانے حالانکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے مردہ انسان کا گوشت کھانے کی طرح قرار دیا۔ حضرت سیِّدُناامام ابو القاسم عبد الکریم بن محمد بن عبد الکریم رافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ) نے اس سے قبل اس بات پر جزم کیا ہے کہ ’’اہلِ علم اور حاملینِ قرآن کے متعلق وَقِیْعَۃ کو کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے اور وَقِیْعَۃ سے مراد غیبت ہے۔‘‘ اور قرآن و حدیث کے مطابق غیبت مطلقًا کبیرہ گناہ ہے۔ چنانچہ، صحیح حدیث ِپاک میں ہے کہ،
{56}…سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ،فیض گنجینہصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے:’’مسلمان کو گالی دینا فسق ہے۔‘‘ (۱)
{57}…حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفیصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ ذیشان ہے:’’بے شک آدمی کا کسی مسلمان کی ناحق بے عزتی کرنا سب سے بڑھ کر کبیرہ گناہ ہے۔‘‘ (۲)
{58}…شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حجۃ الوداع کے سال ارشاد فرمایا:’’بے شک تمہارے خون، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تم پریہ دن اس مہینے اور اس شہر میں حرام ہے۔‘‘ (۳)
حضرت سیِّدُنامحمد بن ابراہیم بن منذرنیشاپوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی(متوفی۳۱۹ھ)اپنی کتاب’’اَ دَبُ الْعِبَاد‘‘میں فرماتے ہیں کہ’’تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوتصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اس حکم سے اپنی امت پر غیبت کو حرام قرار دیا اور اس کی حرمت کو خون اور اموال کی حرمت کے ساتھ ملا دیا۔ پھر تاکیداً یہ بتا کر اس کی حرمت میں مزید اضافہ کر دیا کہ غیبت اسی طرح حرام ہے جس طرح اس حرمت والے مہینے میں اس شہر حرام (یعنی مکہ مکرمہ) کی حرمت ہے۔‘‘
حضرت سیِّدُناامام ابوعبداللہمحمد بن احمد قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی(متوفی۶۷۱ھ)نے اپنی تفسیر میں اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ غیبت کبیرہ گناہ ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں غیبت سے توبہ کرنا واجب ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی ۵۰۵ھ)اورصَاحِبُ الْعُدَّۃ کے علاوہ میں نے کسی کو غیبت کو صغیرہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم ،کتاب الایمان ،باب بیان قول النبی سباب المسلم…الخ،الحدیث:۲۲۱،ص۶۹۱۔
2… سنن ابی داود ،کتاب الادب ،باب فی الغیبۃ ،الحدیث:۴۸۷۷،ص۱۵۸۱’’الرجل‘‘بدلہ’’المرئ‘‘۔
3…صحیح
البخاری ،کتاب الحج ،باب الخطبۃ ایام منی ،الحدیث:۱۷۳۹،ص۱۳۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع