30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہ کسی مومن کی طرف سے خوف ہے اور نہ مشرک کی طرف سے، مومن کو تو اس کا ایمان بچائے رکھے گا اور مشرک کو اس کا کفر ذلیل کرتا رہے گا۔ البتہ! مجھے ان پر زبان کے تیز طراز(یعنی گفتگو کے ماہر) منافق کا خوف ہے جو باتیں ایسی کرے گا کہ تم پسند کرو گے اور عمل ایسے کرے گا جنہیں تم ناپسند کرو گے۔‘‘ (۱)
{35}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ نصیحت نشان ہے:’’تم میں سے کسی کو اپنے بھائی کی آنکھ کا تنکا تو نظر آتا ہے مگر وہ اپنی آنکھ کا شہتیربھول جاتا ہے۔‘‘ (۲)
سب سے بُری بدعت:
سب سے بری بدعت یہ ہے کہ جب نیکی کا حکم دیا جاتا اور برائی سے منع کیا جاتا ہے تو بعض جاہل یہ آیت ِ مبارکہ پڑھ دیتے ہیں : ’’ عَلَیۡکُمْ اَنۡفُسَکُمْ ۚ لَا یَضُرُّکُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اہۡتَدَیۡتُمْ ؕ (پ۷،المائدۃ:۱۰۵) ترجمۂ کنز الایمان: تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جبکہ تم راہ پر ہو۔‘‘ لیکن وہ جاہل امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے اس فرمان کو نہیں جانتے کہ ایسا کرنے والے کا گناہ اپنی رائے سے قرآنِ پاک کی تفسیر کرنے کے گناہ سے بھی زیادہ ہے اور تفسیر بالرائے کبیرہ گناہ ہے۔
مذکورہ آیت ِ مبارکہ کی تفسیر:
حضرت سیِّدُنا ابنِ مسیب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہفرماتے ہیں : ’’آیت ِ مبارکہ کامعنٰی یہ ہے کہ نیکی کاحکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے بعد تم پر اپنے آپ کو گناہوں سے بچانا لازم ہے۔ ‘‘ اوراس کے متعلق دیگر اقوال بھی منقول ہیں۔ حضرت سیِّدُنا ابوعبیدہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ فرماتے ہیں : ’’اس کے علاوہ کوئی آیت ِ مبارکہ نہیں جس میں ناسخ اور منسوخ دونوں جمع ہوں۔ ‘‘ ایک قول کے مطابق ’ اِذَا اہۡتَدَیۡتُمْ ‘‘ ناسخ ہے کیونکہ یہاں ہدایت سے مراد نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا ہے۔
تنبیہ:
ان 3 گناہوں کو کبیرہ گناہوں میں شمار کرنا مذکورہ احادیث ِ مبارکہ سے واضح ہے کیونکہ ان میں سخت وعید ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الاوسط، الحدیث:۷۰۶۵،ج۵،ص۲۰۰۔
2…الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب الحظر والاباحۃ، باب الغیبۃ، الحدیث:۵۷۳۱،ج۷،ص۵۰۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع