30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{25}…حضرتِ سیِّدُنااَنس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے:میں نے معراج کی رات ایسے لوگوں کو دیکھا جن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، میں نے دریافت کیا:’’اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں ؟ ‘‘ تو انہوں نے بتایا:’’یہ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی امت کے خطیب ہیں جو لوگوں کو تو نیکی کی دعوت دیتے تھے مگراپنے آپ کو بھول جاتے تھے حالانکہ قرآن پاک پڑھتے تھے کیا سمجھتے نہ تھے۔‘‘ (۱)
{26}…ایک روایت میں اتنازائد ہے کہ’’جب بھی اُن کے ہونٹ کاٹے جاتے تو وہ اپنی پہلی حالت پر لوٹ آتے۔‘‘ (۲)
{27}…ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’حالانکہ وہ قرآن پاک پڑھتے تھے مگر اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔‘‘ (۳)
واعظین ومُبلِّغِین سے بھی سوال ہوگا:
{28}…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی(متوفی۱۱۰ھ) سے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے: جو شخص بھی خطبہ دیتا(یعنی بیان کرتا) ہے بروزِ قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّاس سے دریافت فرمائے گا: ’’تیرا اس(بیان کرنے)سے کیاارادہ تھا؟‘‘راوی(یعنی حضرت سیِّدُناجعفربن سلیمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)فرماتے ہیں کہ اس روایت کوبیان کرتے ہوئے حضرت سیِّدُنامالک بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار روپڑتے اور ارشاد فرماتے:’’تم کیاسمجھتے ہوکہ تمہارے سامنے یہ بیان کرکے میری آنکھیں ٹھنڈی ہوئی ہیں ؟ جبکہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن مجھ سے اس کے متعلق دریافت فرمائے گا کہ اس سے تیرا کیا ارادہ تھا؟ تو میں یہی عرض کروں گا:’’اے پروردگار عَزَّوَجَلَّ! تو میرے دل پر گواہ ہے، اگر میں یہ نہ جانتا کہ اس کابیان کرنا تجھے پسند ہے تو کبھی دو آدمیوں کے سامنے بھی بیان نہ کرتا۔‘‘ (۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب الاسرائ، الحدیث: ۵۳،ج۱،ص۱۳۵۔
2…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت وآداب اللسان، باب ذم الکذب، الحدیث:۵۷۵،ج۷،ص۳۱۶۔
3…شعب الایمان للبیہقی، باب فی حفظ اللسان، الحدیث:۴۹۶۶مکرر،ج۴،ص۲۵۰۔
4…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا،کتاب ذم الکذب، باب ذم الکذب واہلہ، الحدیث:۴۶،ج۵،ص۲۱۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع