30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے ایذا اور تکلیف بھی مختلف ہوتی ہے۔
البتہ! یہ کہا جا سکتا ہے کہ لنگڑا، نابینا، زرد اور کالا کہنا یا عمامہ، لباس اور سواری کا عیب بیان کرنا صغیرہ گناہ ہے کیونکہ ان صفات سے تکلیف کم ہوتی ہے مگر فسق و فجور، ظلم، والدین کی نافرمانی، نماز میں سستی اور اس کے علاوہ بڑے بڑے گناہوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے جو کہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
بہتر یہی ہے کہ ہمیشہ کے لئے غیبت کا دروازہ بند کر نے کے لئے مختلف غیبتوں کے مابین فرق نہ کیا جائے جیسا کہ شراب کا معاملہ ہے۔ کیونکہ کہتے ہیں کہ’’غیبت میں کھجورکی سی مٹھاس اور شراب جیسی ضَرَاوَت(تیزی) ہے (یعنی غیبت کا چھوڑنا عادی شرابی کے شراب چھوڑنے کی طرح مشکل ہے)۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اس لعنت سے محفوظ فرمائے اور ہماری طرف سے غیبت والوں کے حقوق خود ہی ادا فرمائے کیونکہ اس کے علاوہ انہیں کوئی شمار نہیں کر سکتا اور اس میں کوئی خفا (پوشیدگی) نہیں کہ یہاں ’’ غیبت کرنے ‘‘کو جائز یا واجب کرنے کاکوئی سبب نہیں بلکہ جس کی غیبت کی جا رہی ہو اس سے تفریح کرنا یا اسے تکلیف پہنچانا ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا امام اَذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ)کا کلام ختم ہوا۔
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے شاگرد نے ’’اَ لْخَادِم‘‘میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی اتباع کی اور کہا: ’’صحیح یہ ہے کہ غیبت کبیرہ گناہ ہے اور حضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی۲۰۴ھ) نے اس پر دلیل قائم فرمائی اور اس حدیث ِ پاک سے استدلال کیا کہ،
{55}…حضور نبی ٔکریم، رَ ء ُوف رَّحیمصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’بے شک تمہارے خون، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تم پر اُسی طرح حرام ہیں جس طرح تم پر یہ دن اس مہینے اور اس شہر(یعنی مکۂ مکرمہ) میں حرام ہے۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا استاذ ابو اسحاق اسفرائنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی(متوفی۴۱۸ھ)نے اپنی کتاب’’اَلعَقِیْدَۃ‘‘ میں کَبَائِر کے بیان میں ، حضرت سیِّدُنا جبلی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (متوفی۶۲۹ھ)نے شَرْحُ التَّنْبِیْہمیں اور حضرت سیِّدُنا کواشی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی۶۸۰ھ) نے اپنی تفسیر میں غیبت کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔ جبکہ بعض علما نے اس کو صغیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ اس نص پر آگاہ نہ ہوئے ہوں اور اس پر حیرت ہے جو مردار کھانے کو تو کبیرہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح
البخاری ،کتاب الحج ،باب الخطبۃ ایام منی ،الحدیث:۱۷۳۹،ص۱۳۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع