30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کبیرہ نمبر393:قدرت کے باوجود اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف ترک کردینا
(یعنی اپنے جان ومال پر کسی قسم کا خوف نہ ہونے کے باوجودنیکی کی دعوت چھوڑ دینا)
کبیرہ نمبر394:قدرت کے باوجود نَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَرترک کرنا
(یعنی اپنے جان ومال پر کسی قسم کا خوف نہ ہونے کے باوجودبرائی سے منع کرناچھوڑ دینا)
کبیرہ نمبر395:قول کا فعل کے مخالف ہونا
امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے متعلق آیات ِمبارکہ:
اس اہم فریضہ کے متعلق اللہ عَزَّوَجَلَّکے چند فرامین عالیشان ملاحظہ فرمائیے:
وَالْمُؤْمِنُوۡنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ۘ یَاۡمُرُوۡنَ بِالْمَعْرُوۡفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنۡکَرِ (پ۱۰، التوبۃ:۷۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں۔
حُجَّۃُ الاسلامحضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ) فرماتے ہیں : ’’اس آیت ِ مبارکہ نے یہ بات سمجھائی کہ جس نے ان دونوں کو(یعنی نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا) چھوڑ دیا وہ مؤمنین کی صف سے نکل گیا۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا امام ابوعبداللہ محمدبن احمدقرطبی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس آیت ِ مبارکہ کو مؤمنین اور منافقین کے درمیان فرق کرنے والا بنا دیا۔‘‘ (۲)
ایک اورمقام پر ارشاد ہوتا ہے:
وَتَعَاوَنُوۡا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی ۪ وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوٰنِ ۪ (پ۶، المائدۃ:۲)
ترجمۂ کنز الایمان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔
نیز برائی سے منع نہ کرنا گناہ پر تعاون کرنا ہے۔ چنانچہ ،ارشاد ہوتا ہے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…احیاء علوم الدین،کتاب الامر بالمعروف والنہی عن المنکر، الباب الاول، ج۲،ص۳۷۸، مفہوماً۔
2…الجامع لاحکام القرآن للقرطبی، آل عمران، تحت الآیۃ۲۱،ج۲، الجزء الرابع، ص۳۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع