30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترک ِجہاد کی تباہ کاری:
{2}… رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جب تمبَـیْع عِیْنَہ(۱) کرو گے اور بیلوں کی دُمیں پکڑو گے اور کاشت کاری میں پڑ جاؤ گے اور جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ عَزَّوَجَلَّتم پر ذِلَّت مسلَّط فرما دے گا اور اسے تم سے نہ نکالے گا یہاں تک کہ تم اپنے دین کی طرف لوٹ آؤ۔‘‘ (۲)
صفت ِ منافقت پر موت :
{3}… حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمتصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’جو بغیر جنگ کئے مر گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1182 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلددوم صَفْحہ 779پر ہے: ’’بیع عینہ کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص نے دوسرے سے مثلاً دس روپے قرض مانگے اس نے کہا: میں قرض نہیں دوں گا، یہ البتہ کر سکتا ہوں کہ یہ چیز تمہارے ہاتھ بارہ روپے میں بیچتا ہوں ، اگر تم چاہو خرید لو اسے بازار میں دس روپے کو بیع کردینا تمہیں دس روپے مل جائیں گے اور کام چل جائے گا اور اسی صورت سے بیع ہوئی۔ بائع(یعنی بیچنے والے) نے زیادہ نفع حاصل کرنے اور سود سے بچنے کا یہ حیلہ نکالا کہ دس کی چیز بارہ میں بیع کردی اس کا کام چل گیا اور خاطر خواہ اس کو نفع مل گیا۔ بعض لوگوں نے اس کا یہ طریقہ بتایا ہے کہ تیسرے شخص کو اپنی بیع میں شامل کریں یعنی مقرض(قرض دینے والے) نے قرض دار کے ہاتھ اس کو بارہ میں بیچا اور قبضہ دے دیا پھر قرض دار نے ثالث کے ہاتھ دس روپے میں بیچ کر قبضہ دے دیا اس نے مقرض کے ہاتھ دس روپے میں بیچا اور قبضہ دے دیا اور دس روپے ثمن کے مقرض سے وصول کرکے قرض دار کو دے دئیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قرض مانگنے والے کو دس روپے وصول ہوگئے مگر بارہ دینے پڑیں گے کیونکہ وہ چیز بارہ میں خریدی ہے۔‘‘
مجدِّدِاعظم ،سیِّدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ’’بیع عِینہ ‘‘کے متعلق ارشادفرماتے ہیں : ’’بیع عینہ کو ہمارے ائمۂ کرام(رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام) نے کیا ٹھہرایا ہے، کیا ممنوع، ناجائز،حرام،مکروہِ تحریمی؟حاشاہرگزنہیں ،یہ محض غلط وباطل ہے بلکہ(بیع عینہ) جائز، حلال،روا،درست۔ غایت درجہ اس میں اختلاف ہواکہ خلافِ اولیٰ بھی ہے یانہیں ،ہمارے امامِ اعظم(عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم) بلاکراہت مانتے ہیں ،امام ابویوسف(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ) خودثواب ومستحب جانتے ہیں ،امام محمد(عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَد) احتیاط کے لئے صرف خلافِ اولیٰ ٹھہراتے ۔‘‘(فتاوٰی رضویہ،ج۱۷،ص۵۴۷)بیع عینہ کی تفصیل وتحقیق نیزمتن میں مذکورحدیث شریف کی شرح فتاویٰ رضویہ شریف کی اسی جلد(۱۷)کے صفحہ464 تا471 پر ملاحظہ فرمائیں اور آسانی سے سمجھنے کے لئے مکتبۃ المدینہ سے شائع ہونے والے سیِّدِی اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُُ رَبِّ الْعِزَّت کے اسی رسالہ(کِفْلُ الفَقِیْہِ الْفَاہِم فِیْ اَحْکَامِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِم)کی تسہیل بنام ’’کرنسی نوٹ کے شرعی احکامات‘‘(صفحہ136تا145)کا مطالعہ فرمائیں۔(علمیہ)
2…سنن ابی داود، کتاب الاجارۃ، باب فی النھی عن العینۃ، الحدیث:۳۴۶۲،ص۱۴۸۱،’’رغبتم‘‘بدلہ’’رضیتم‘‘۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع