30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لیکن یہ نقصان دہ نہیں کیونکہ دار ومدار تو دشمن پر غلبہ حاصل کرنے کے ارادے پر ہے نہ کہ غلبہ پا لینے پر۔
(۶)…’’ التَّھْلُکَۃ ‘‘ سے مراد جہاد میں دِکھاوے، شہرت اور احسان جتانے کے لئے فضول خرچی کرنا ہے۔
(۷)… اس سے مراد مایوس ہونا ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ وہ کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر سمجھتا ہے کہ اس کی وجہ سے اسے کوئی نیک عمل فائدہ نہ دے گا لہٰذا وہ مزید گناہوں میں منہمک رہتا ہے۔
(۸)…اس سے مراد خبیث چیزوں کااللہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں خرچ کرناہے۔اس کے علاوہ اوربھی کئی اقوال ہیں۔
حضرت سیِّدُنا امام ابو جعفر محمد بن جریر طَبَری عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ لفظ مذکورہ تمام توجیہات کو شامل ہے کیونکہ یہ ان کا احتمال رکھتا ہے۔
{1}… حضرت سیِّدُنا ابو عمران رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ہم روم کے قریب تھے کہ وہیں سے ہماری طرف ایک بہت بڑی فوج نمودار ہوگئی ، مسلمانوں میں سے انہی کی مثل لوگ ان کے مقابلے میں نکل پڑے۔ مسلمانوں نے اہلِ شہر پر حضرت سیِّدُنا عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اور جماعت پر حضرت سیِّدُنا فضالہ بن عبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو امیر بنایا۔ اچانک ایک مسلمان نے رومیوں کی صف پر حملہ کر دیا یہاں تک کہ وہ ان کے درمیان داخل ہو گیا، لوگ اُونچی اُونچی آواز میں کہنے لگے: ’’سُبْحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! یہ اپنے ہاتھوں ہلاکت میں پڑ رہا ہے۔‘‘ تو حضرت سیِّدُنا ابوایوب انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کھڑے ہو گئے اور ارشاد فرمایا:اے لوگو! تم یہ تاویل کرتے ہوجبکہ یہ آیت ِ مبارکہ ہم انصار کے متعلق نازل ہوئی۔ جب اللہ عَزَّوَجَلَّنے اسلام کو عزَّت عطا فرمائی اور اس کے مددگار زیادہ ہو گئے تو حضورنبی ٔ مُکَرَّم،نُورِ مجسَّمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عدم موجودگی میں کچھ لوگوں نے رازداری میں ایک دوسرے سے کہا: ’’ہمارے اموال ضائع ہو گئے ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّنے اسلام کو شان وشوکت عطا فرما دی اور اس کے مددگار کثیر ہو گئے ہیں ، لہٰذا ہم اپنے اہل وعیال اور مال میں ٹھہر جاتے ہیں تاکہ انہیں ضائع ہونے سے بچا لیں۔‘‘ تو اللہ عَزَّوَجَلَّنے آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر یہ آیت ِ مبارکہ نازل فرمائی جس نے ہماری ان باتوں کی تردید کی،چنانچہ، فرمایا:’’ وَلَا تُلْقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمْ اِلَی التَّہۡلُکَۃِۚۖۛ ‘‘ یہاں تَھْلُکَۃ سے مراد اپنے مال اور اس کی بہتری کے لئے ٹھہر جانا اور جہاد ترک کر دینا ہے۔‘‘ پھرحضرت سیِّدُنا ابو ایوب انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہمیشہ جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ روم میں دفن کئے گئے ۔ (۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…جامع الترمذی، ابواب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ البقرۃ، الحدیث:۲۹۷۲،ص۱۹۵۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع