30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہیں شہید ہو گئے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو قسطنطنیہ شہر کی دیوار کے قریب دفن کیا گیا۔ لوگ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی برکت سے بارش طلب کرتے ہیں۔ (۱)
پہلی دلیل کاجواب:
اس واقعہ میں کوئی دلیل نہیں کیونکہ حضرت سیِّدُنا ابوایوب انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ نہیں فرمایا کہ اظہارِ غلبہ کے بغیر انسان کا خود کو ہلاکت میں مبتلا کرنا جائز ہے اور یہی ہمارا دعویٰ ہے۔
دوسری دلیل:
انہوں نے یہ بھی دلیل دی ہے کہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے ایک گروہ نے اپنے آپ کو دشمن کے سامنے ڈال دیا اوررحمت ِ عالم ،نُورِ مجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی تعریف فرمائی اور اسی طرح کا ایک واقعہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زمانے میں ایک شخص کے ساتھ پیش آیا تو کہا گیا: ’’یہ اپنے ہاتھوں ہلاکت میں پڑا ہے۔‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’ان لوگوں نے غلط کہا، اللہ عَزَّوَجَلَّ توارشاد فرما رہا ہے:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشْرِیۡ نَفْسَہُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللہِ (پ۲، البقرۃ: ۲۰۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور کوئی آدمی اپنی جان بیچتا ہے اللہ کی مرضی چاہنے میں۔ (۲)
دوسری دلیل کا جواب:
مذکورہ روایات میں ان کی کوئی دلیل نہیں اس لئے کہ یہ بھی دعویٰ کے مطابق نہیں کیونکہ ان میں سے کسی واقعہ میں یہ مذکور نہیں کہ کسی نے اپنے آپ کو دشمن کی صف میں داخل کیاہو یہاں تک کہ وہ قتل کر دیا گیا ہو اور اسے یہ بھی معلوم ہو کہ وہ ان پر غلبہ نہیں پا سکتا۔ بلکہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے احوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے جب بھی یہ عظیم اِقدام کیا تو ان کا مقصد دشمن پر غلبہ پانا تھا۔ ایسا ارادہ کرنے والا کبھی غلبہ پا لیتا ہے اور کبھی نہیں پاتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…تفسیر البغوی، البقرۃ، تحت الآیۃ۱۹۵،ج۱،ص۱۱۸۔
2…التفسیر الکبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ۱۹۵،ج۲،ص۲۹۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع