30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کریں اور دشمن ان پر غالب آ کر انہیں ہلاک کر دے۔ گویا یہ کہا گیا ہے کہ اگر تم دین دار شخص ہو تواللہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں خرچ کرو اور اگر دنیا دار ہو تو اپنے آپ سے ہلاکت اور نقصان دور کرنے میں خرچ کرو۔
(۲)…اس سے مراد خرچ میں حد سے بڑھنا ہے کیونکہ کھانے، پینے اور پہننے کی شدید حاجت کے وقت تمام مال خرچ کر دینا ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے۔
(۳)… اس سے مراد بغیر نفقہ کے جہاد کے لئے سفر کرنا ہے۔ ایک قوم نے ایسا ہی کیا پس وہ راستے میں ہی ہلاک ہو گئے۔
(۴)…اس سے مراد نفقہ کے علاوہ چیز ہے۔ اس بنا پر کہا گیا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ جہاد سے رُک جائیں اور اپنے آپ کو ہلاکت یعنی جہنم کے عذاب کے لئے پیش کر دیں۔
(۵)…اس سے مراد یہ ہے کہ دشمن پر غلبہ کی امیدکے بغیر جنگ میں بے خطر کود پڑے اور قتل ہو جائے کیونکہ اس طرح وہ خود کو ظلماً قتل کرنے والا شمار ہو گا۔ (۱)
انکار کرنے والوں کی پہلی دلیل :
بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام اس قول کو رد کرتے ہوئے دلیل دیتے ہیں کہ مہاجرین میں سے ایک شخص نے دشمن کی صف پر حملہ کیا تو لوگ بآوازِ بلند کہنے لگے: ’’یہ اپنے ہاتھوں ہلاکت میں پڑا۔‘‘ تو حضرت سیِّدُنا ابو ایوب انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:’’ ہم اس آیت ِ مبارکہ کے مفہوم کو زیادہ جانتے ہیں اور یہ ہمارے متعلق ہی نازل ہوئی، ہم نے سیِّدعالم ،نُورِ مجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صحبت پائی، آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تعاون کیا اور آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ کئی معرکوں میں شریک ہوئے۔ جب اسلام مضبوط ہو گیا اور مسلمانوں کی کثرت ہوگئی اور ہم اپنے اہل وعیال اور مال کی بہتری کے لئے ان کی طرف متوجہ ہوگئے تو یہ آیت ِ مبارکہ نازل ہوئی۔ لہٰذاتَھْلُــکَۃ سے مراد اہل وعیال میں ٹھہرے رہنااور مال خرچ نہ کرنا اور جہاد چھوڑ دینا ہے۔‘‘ (۲)
یہی وجہ ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو ایوب انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ساری زندگی راہِ خدا میں جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ آخری غزوہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زمانۂ خلافت میں قسطنطنیہ میں لڑا اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…اللباب فی علوم الکتاب لابن عادل الحنبلی ، البقرۃ، تحت الآیۃ۱۹۵،ج۳، ص۳۵۴، مفہوماً۔
2…التفسیر الکبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ۱۹۵، ج۲،ص۲۹۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع