30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کتاب الجھاد (جہاد کا بیان)
کبیرہ نمبر390: فرضِ عین جہاد نہ کرنا
(یعنی اس وقت جب حربی کفار دارُ الاسلام میں داخل ہو جائیں یا کسی مسلمان کو پکڑ لیں اور اس کا چھڑانا بھی ممکن ہو)
کبیرہ نمبر391: بالکل جہاد چھوڑ دینا
کبیرہ نمبر392: سرحدوں کو تقویّت نہ د ینا
(یعنی اپنے ملک کی سرحدوں کو مضبوط نہ کرنا جس کی وجہ سے اس پر کفار کے غلبہ کا خوف رہے)
جہاد چھوڑنے کی مذمَّت میں آیات ِقرآنیہ:
اللہ عَزَّوَجَلَّارشادفرماتا ہے:
وَلَا تُلْقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمْ اِلَی التَّہۡلُکَۃِۚۖۛ (پ۲، البقرۃ:۱۹۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔
آیت مبارکہ کی تفسیر
اَلتَّھْلُکَۃ، اَلْہَلَاک کے معنی میں مصدر ہے اور ان دونوں کے مابین کوئی فرق نہیں۔ بعض کے نزدیک اَلتَّھْلُکَۃ سے مراد وہ بربادی ہے جس سے بچنا ممکن ہو اوراَلْہَلَاک کا معنی وہ تباہی ہے جس سے بچنا ممکن نہ ہو اور ایک قول یہ ہے کہ اَلتَّھْلُکَۃ سے مراد مہلک چیز ہے اور بعض نے کہا کہ جو انسان کی آخرت خراب کرے۔ (۱)
’’اَ لْاِلْقَاءُ بِالأیْدِیْ اِلَی التَّھْلُکَۃ‘‘ (یعنی اپنے ہاتھوں ہلاکت میں پڑنا)اس کی تفسیر میں مفسرین کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اختلاف ہے۔ (چند اقوال ذکر کئے جاتے ہیں :)
(۱)…’’اَلتَّھْلُکَۃ‘‘ سے مراد مال خرچ کرنا ہے۔ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور جمہور مفسِّرینِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا یہی قول ہے اورحضرت سیِّدُنا امام محمد بن اسماعیل بخاری عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی نے بھی اسی کو اختیار کیا اور اس کے علاوہ کچھ اور ذکر نہ کیاتاکہ ایسا نہ ہو کہ لوگ جہادی مہمات میں اپنے مال و اسباب خرچ نہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…اللباب فی علوم الکتاب لابن عادل الحنبلی ، البقرۃ، تحت الآیۃ۱۹۵،ج۳، ص۳۵۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع