30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ) اورصَاحِبُ الْعُدَّۃ کے علاوہ میں نے کسی کو اسے صغیرہ کہتے ہوئے نہیں پایا۔(۱)عجیب بات یہ ہے کہ انہوں نے برائی سے منع نہ کرنے کو مطلقًا کبیرہ گناہ قرار دیا ہے اوریہ اطلاق اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ غیبت سے منع نہ کرنا بھی کبیرہ گناہ ہونا چاہئے کیونکہ یہ ایک بہت بڑی برائی ہے، خصوصاً اولیاءے کرام اور اہلِ کرامات رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کی غیبت کرنا اور اس کا کم تر درجہ یہ ہے کہ اگر اجماع ثابت نہ ہوتا تو دو مختلف غیبتوں کے مابین فرق کیا جاتا کیونکہ اس کے درجات، مفاسد اور اس سے پہنچنے والی تکلیف میں کمی بیشی اور ایذارسانی کے اعتبار سے بہت زیادہ اختلاف ہے۔
علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں :’’غیبت یہ ہے کہ انسان کے کسی ایسے عیب کا ذکر کرنا جو اس میں موجود ہو خواہ اس کے دین، دنیا، ذات، اخلاق، مال، اولاد، بیوی، خادم، غلام، عمامہ، کپڑوں ، حرکات وسکنات، مسکراہٹ، دیوانگی، ترش روئی اور خوش ہونے وغیرہ کے متعلق ہو۔‘‘
بدن میں غیبت کی مثالیں : مثلاً اندھا، لنگڑا، نابینا، گنجا، چھوٹا، لمبا، کالا اور زرد وغیرہ کہنا۔
دین میں غیبت کی مثالیں : مثال کے طور پر فاسق، چور، خائن، ظالم، نماز میں سستی کرنے والا، گندگی میں پڑنے والا اور والدین کا نافرمان وغیرہ کہنا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان امور میں غیبت کے مختلف ہونے کی وجہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…یہاں حضرت سیِّدُنا
امام اَ ذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ
الْقَوِینے فرمایا ہے کہ ’’امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ
الْوَالِینے غیبت کو صغیرہ قرار دیا۔‘‘ مگر
حضرت سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ
الْوَالِی کی کتب کا مطالعہ کرنے سے پتہ
چلتا ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی
عَلَیْہ نے غیبت پر بڑی تفصیلی گفتگو فرمائی اور اسے صریح طور پرحرام قرار
دیا۔ نیزآیاتِ قرآنیہ اور احادیث ِ مبارکہ سے اس کی حرمت کو واضح کیا ۔ چنانچہ،
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ’’اِحْیَاءُ الْعُلُوْم‘‘ میں فرماتے ہیں :
’’زبان سے غیبت کرنا حرام ہے کیونکہ اس میں دوسرے لوگوں کواپنے بھائی کے عیب سے
آگاہ کرنا اور ناپسندیدہ وصف سے اس کی شناخت کرانا پایا جاتا ہے۔ اس معاملے میں
اشارۃً کلام، صریح کلام کی طرح ہے اور فعل قول کی مثل ہے، اشاروں کنایوں سے کسی
کاعیب بیان کرنا، لکھنا اور حرکت کرناوغیرہ ایسے تمام طریقے جن سے مقصود سمجھ
آتاہو،غیبت میں داخل ہیں اور حرام ہیں۔‘‘ (احیاء علوم الدین،کتاب آفات اللسان،الآفۃ الخامسۃ عشرۃ:الغیبۃ، ج۳،ص ۱۷۹) اس سے بظاہرمعلوم ہوتا ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی کے نزدیک بھی غیبت کبیرہ گناہ ہے۔البتہ یہ ممکن ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کسی خاص صورت کو صغیرہ قرار دیا ہو جیساکہ حضرت سیِّدُنا امام اَ
ذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اسی مقام پر عمامہ وسواری وغیرہ کے عیوب بیان کرنے کو صغیرہ
فرمایا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع