30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{8}…میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفیصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’جس نے کسی مومن یا مسلمان کی طرف ڈرا نے والی نظر سے ناحق دیکھا تواللہ عَزَّوَجَلَّبروزِقیامت اس کے بدلے اُسے خوفزدہ کرے گا۔‘‘ (۱)
تنبیہ:
مذکورہ گناہوں کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اوراس باب کی پہلی اور بعد والی احادیث ِ مبارکہ مذکورہ آخری گناہ کے کبیرہ ہونے پرصراحتاً دلالت کرتی ہیں اور اس سے پہلے والے گناہوں کا کبیرہ ہونا اس سے بدرجۂ اَولیٰ سمجھا جا سکتا ہے اور یہ بالکل واضح ہے اگرچہ میں نے کسی کو ان کاذکر کرتے ہوئے نہیں پایا لیکن یہ بات اس کے کبیرہ گناہ ہونے کی تائید کرتی ہے کہ شافعی ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے مذکورہ صورتوں میں حملہ آور کا خون مباح قرار دیا ہے، پھر جس پر حملہ کیا جائے کبھی تو اس کے لئے خود کو حملہ آور سے بچانا مباح قرار دیتے ہیں اور کبھی واجب۔ لہٰذا جب وہ اپنا دفاع کرے تو لازم ہے کہ آسان سے آسان طریقہ اپنائے اور کوئی ایسا طریقہ اختیار نہ کرے جس سے آسان طریقہ سے دفاع کرسکتا ہو البتہ! اگر دشمن سے دفاع کرتے ہوئے اس کے قتل کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہ ہو تو اس کا خون مباح ہے اور اس کے قتل پر قصاص، دیت یا کفارہ نہیں۔ اس کا خون مباح قرار دینا اس کے فاسق ہونے کی واضح دلیل ہے پس جب اس کا ناحق حملہ کرنا اس کا خون مباح قرار دے رہا ہے تو ضروری ہے کہ وہ اس وجہ سے فاسق کہلائے ۔ لیکن ہم مذکورہ استدلال تب کرتے جبکہ اس کے متعلق احادیث ِ مبارکہ مروی نہ ہوتیں ، لہٰذا جب احادیث ِ مبارکہ موجود ہیں تو اس پر عمل کیسے ہو سکتاہے۔ پھر میں نے مسلم شریف میں اس کی واضح دلیل پائی۔ چنانچہ،
ڈاکو کوقتل کرنے کا حکم:
{9}…ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص میرا مال چھیننے کے لئے آئے(تو میں کیا کروں )؟‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اسے اپنا مال نہ دے۔‘‘ اس نے عرض کی:’’اگر وہ مجھ سے قتال کرے؟‘‘ارشاد فرمایا: ’’تو تم بھی اس سے قتال کرو۔‘‘ اس نے عرض کی: ’’اگر وہ مجھے قتل کر دے؟‘‘ ارشاد فرمایا:’’تو تم شہید ہو گے۔‘‘ اس نے عرض کی:’’اگر میں اسے قتل کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۷۰،ج۱۳۔۱۴،ص۲۲، بتغیرٍقلیلٍ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع