30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیونکہ یہ شفا ہے اور لوگوں کا (برائی کے ساتھ) ذکر کرنے سے بچو کیونکہ یہ بیماری ہے۔‘‘ (۱)
{… عیبوں کو ڈھونڈتی ہے عیب جُو کی نظر جو خوش نظر ہیں ہنر وکمال دیکھتے ہیں … }
تنبیہات
تنبیہ1:
اکثر علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے غیبت کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے ۔نیز اس سے لازم آتا ہے کہ غیبت پر رضامندی کے ساتھ خاموش رہنا بھی کبیرہ گناہ ہے۔ اس بنا پر کہ قدرت کے باوجود برائی سے منع نہ کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے اور غیبت تو بہت بڑی برائیوں میں سے ایک ہے جس کا اثبات گزشتہ بحث سے ہو چکا ہے۔ پھر میں نے حضرت سیِّدُنا امام شہاب الدین اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) کو دیکھا کہ وہ فرماتے ہیں : ’’غیبت سے روکنے پر قدرت کے باوجود خاموش رہنے کا بھی وہی حکم ہونا چاہئے جو غیبت کا ہے، ہاں ! اگر اسے روکنے کی طاقت نہ ہو تو جس قدر ممکن ہواس سے دُور ہٹ جائے۔‘‘
امام بدرالدین محمدبن بہادربنعبداللہ زرکشی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (متوفی۷۹۴ھ) نے بھی ان کی اتباع کرتے ہوئے فرمایا:’’روکنے پر قدرت کے باوجود غیبت سے منع نہ کرنا کبیرہ گناہ ہے۔‘‘
حضرات شیخین(یعنی امام نووی اور امام رافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا)نے صَاحِبُ الْعُدَّۃ کے اس قول ’’غیبت اور اس پر خاموش رہنا صغیرہ گناہ ہے۔‘‘ کو برقرار رکھا مگر علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس پر کئی اعتراضات وارد کئے۔ چنانچہ، حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) فرماتے ہیں کہ’’غیبت کے مطلق صغیرہ ہونے کا قول ضعیف یا باطل ہے۔‘‘ اور مفسِّرِ قرآن حضرت سیِّدُنا امام ابوعبداللہمحمد بن احمد قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۶۷۱ھ) وغیرہ نے اس کے کبیرہ گناہ ہونے پر اجماع نقل کیا ہے اور ہمارے اصحاب (یعنی شوافع) کے ایک گروہ کا کلام بھی اسی کے موافق ہے جیسا کہ کبیرہ کی تعریف میں گزر چکا ہے۔ نیز قرآن و سنت میں بھی اس پر سخت حکم موجود ہے اور جو غیبت کی مذمت پر مروی احادیث ِ مبارکہ میں غور و فکر کرے وہ ازخود اس کا کبیرہ ہونا جان لے گا۔ حُجَّۃُ الْاِسْلَام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…موسوعۃ
الامام ابن ابی الدنیا،کتاب الغیبۃ والنمیمۃ ،باب الغیبۃ وذمہا ،الحدیث:۶۷،ج۴،ص۳۶۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع