30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی یلغار کے بعد یہ نمودار ہوئی اور کسی نے کتنی اچھی بات کہی :
فَاٰ ٰکِلُھَا وَ زَاعِمُھَا حَلَالاً فَتِلْکَ عَلَی الشَّقِیِّ مُصِیْبَتَانِ
ترجمہ:اسے کھانے والے او راسے حلال گمان کرنے والے بدبخت پر دو مصیبتیں ہیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم! شیطان جس قدر حشیش پینے سے خوش ہوا اتنا کسی چیز سے خوش نہیں ہوا کیونکہ اس نے اسے کمینے لوگوں کے لئے آراستہ و مزیَّن کیا۔ (۱)
کفَن چور کے اِنکِشافات:
منقول ہے کہ خلیفہ عبدالملک بن مروان کے پاس ایک نوجوان غمگین حالت میں آیا اور عرض کی: ’’اے خلیفہ! میں نے ایک بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا ہے، کیا میرے لئے توبہ کی کوئی صورت ہے؟‘‘ عبدالملک بن مروان نے پوچھا: ’’تیرا گناہ کیا ہے؟‘‘ اس نے بتایا: ’’بہت بڑا ہے۔‘‘ خلیفہ نے دوبارہ پوچھا: ’’تیرا گناہ جوبھی ہو، اللہ عَزَّوَجَلَّ سے توبہ کر وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور گناہ معاف فرماتا ہے۔‘‘ اس نے عرض کی: ’’اے خلیفہ! میں (کفن چوری کرنے کے لئے) قبریں کھودا کرتا تھا ، اس دوران میں نے ان میں عجیب وغریب چیزیں دیکھیں۔‘‘ خلیفہ نے پوچھا: ’’تو نے کیا دیکھا؟‘‘ اس نے بتایا: میں نے ایک رات ایک قبر کھودی تو دیکھا کہ مردے کا منہ قبلہ سے پِھرا ہوا ہے، میں ڈر گیا اور نکلنے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ قبر میں سے کسی کہنے والے نے کہا: ’’کیا تم میت کے بارے میں نہیں پوچھو گے کہ اس کا چہرہ قبلہ سے کیوں پھیر دیا گیا ہے؟‘‘ میں نے اس کا سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ ’’ یہ نماز کو ہلکا جانتا تھا لہذا اس جیسے کی یہی سزا ہے۔‘‘
پھر میں نے دوسری قبر کھودی توقبر والے کو دیکھا کہ وہ خنزیر بن چکا تھا اور اس کی گردن بیڑیوں اور طوق سے بندھی ہوئی تھی۔ میں اس سے بھی ڈر گیا اور نکلنے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ اچانک پھر کسی کی یہ آواز سنی: ’’کیا تم اس کے عمل کے متعلق نہیں پوچھو گے اور یہ کہ اسے کیوں عذاب دیا جا رہا ہے؟‘‘ میں نے عذاب کا سبب پوچھا تو اس نے بتایا: ’’یہ شراب پیتا تھا اور بغیرتوبہ کئے مر گیا۔‘‘ پھر میں نے تیسری قبر کھودی تو قبر والے کو زمین میں آگ کی میخوں سے بندھا ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…کتاب الکبائر للذہبی، الکبیرۃ التاسعۃ عشرۃ:شرب الخمر، ص۹۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع