30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
شراب پینے والا ایمان سے محروم ہو گیا:
{۲}…منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیَاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ اپنے ایک شاگرد کے پاس تشریف لائے جس کی موت کا وقت قریب تھا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے اسے کلمۂ شہادت کی تلقین کی مگر اس کی زبان سے ادا نہ ہوسکا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ اس کے پاس بار بار کلمۂ طیبہ دُہراتے رہے تو اس نے کہا: ’’میں نہیں پڑھتا اور میں اس سے بیزار ہوں۔‘‘ اس کے بعد وہ مر گیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ اَشک بہاتے ہوئے وہاں سے واپس تشریف لے آئے، کچھ مدت کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے اسے خواب میں اس حال میں دیکھا کہ اسے آگ میں گھسیٹا جا رہا تھا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے دریافت فرمایا: ’’اے مسکین! کس سبب سے تجھ سے ایمان چھین لیا گیا؟‘‘ اس نے کہا: ’’اے استاذِ محترم! مجھے ایک بیماری لگ گئی تھی، میں چند طبیبوں کے پاس گیا تو انہوں نے کہا: ہر سال شراب کا ایک پیالہ پی لیا کر، اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تیری بیماری کبھی ختم نہ ہو گی، چنانچہ میں ہر سال بطورِ دوا شراب کا ایک پیالہ پی لیا کرتا تھا۔‘‘ (۱) پس جب دواکے طور پر شراب پینے والے کا یہ انجام ہوا تو ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو اسے بلاعذر پیتے ہیں ؟ ہم اللہ عَزَّوَجَلَّسے ہر آفت ومصیبت سے عافیت طلب کرتے ہیں۔
شرابی کا منہ قبلہ سے پِھر گیا:
{۳}…کسی توبہ کرنے والے سے اس کی توبہ کا سبب پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ میں قبریں کھودا کرتا تھا، میں نے ان میں کچھ مُردے ایسے دیکھے جن کے چہرے قبلہ سے پِھرے ہوئے تھے، جب ان کے گھر والوں سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ وہ دنیا میں شراب پیا کرتے تھے اور بغیر توبہ کئے مر گئے۔
{۴}…ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میرا بیٹافوت ہو گیا، دفن کرنے کے کچھ دن بعد میں نے اسے خواب میں دیکھا کہ اس کے سر کے بال سفید ہو چکے تھے، میں نے پوچھا: ’’اے میرے بیٹے! میں نے تو تجھے نوعمری میں دفن کیا تھا تو کس چیز نے تجھے بوڑھا کر دیا۔‘‘ اس نے جواب دیا: ’’اے میرے والد ِمحترم!جب آپ نے مجھے دفن کر دیا تومیرے قریب ایک ایسے شخص کو دفن کیا گیا جو دنیا میں شراب پیتا تھا، پس اس کے آنے سے اس کی قبر میں آگ اس شدت سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…منھاج العابدین للغزالی ، الباب الخامس فی العقبۃ الخامسۃوھی عقبۃ البواعث ، ص۱۵۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع